رسائی کے لنکس

خاتون پائلٹ کے شام میں دولت اسلامیہ پر حملے


میجر مریم المنصوری

میجر مریم المنصوری

میجر مریم المنصوری ابو ظہبی میں پیدا ہوئیں اور اُنھوں نے خلیفہ بن زید ائیر کالج سے 2007 میں اپنی تربیت مکمل کی۔

متحدہ عرب امارات کی پہلی خاتون پائلٹ نے رواں ہفتے کے اوائل میں شام کے خلاف فضائی کارروائیوں کی قیادت کی۔

متحدہ عرب امارات کے واشنگٹن میں سفیر نے جمعرات کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک جنگجو گروپ کو شکست دینے کے لیے جو کچھ ہو سکا وہ کرے گا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر یہ افوائیں گردش کرتی رہی تھیں کہ میجر مریم المنصوری نے شام میں شدت پسندوں کے خلاف حملوں میں حصہ لیا۔

متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف الاوطابس کی طرف سے اس بارے میں پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی۔

اُنھوں نے ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل ’ایم ایس این بی سی‘ کے مارننگ شو میں کہا کہ مریم المنصوری ’’انتہائی تربیت یافتہ اور لڑائی کے لیے تیار ہیں اور انھوں نے مشن کی قیادت کی‘‘۔

امارات کے سفارت خانے نے اپنے سفیر کے اس بیان کی تصدیق فوری طور پر سفارت خانے کے آفیشل ’ٹوئیٹر‘ پر بھی کر دی۔

متحدہ عرب امارات سات عرب ریاستوں پر مشتمل اتحاد ہے جس کا دارالخلافہ ابوظہبی جب کہ اقتصادی مرکزی دبئی میں ہے۔

متحدہ عرب امارات اُن پانچ عرب ممالک میں سے ایک ہے جو امریکہ کی زیر قیادت شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شامل ہے۔

میجر مریم المنصوری ابو ظہبی میں پیدا ہوئیں اور اُنھوں نے خلیفہ بن زید ائیر کالج سے 2007 میں اپنی تربیت مکمل کی۔

اُن کے ملک کے ایک سرکاری اخبار ’نیشنل‘ کے مطابق اُن کے پاس ’انگلش لٹریچر‘ کی بھی ڈگری ہے۔

XS
SM
MD
LG