رسائی کے لنکس

متحدہ عرب امارات: بغاوت کے الزام میں 61 افراد کو سزا


فائل

فائل

سزا پانے والوں میں کئی ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، وکیل اور متحدہ عرب امارات کے بااثر خاندانوں کے افراد شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں ایک عدالت نے بغاوت کے الزام میں 61 افراد کو قید کی سزائیں سنائی ہیں جن کا تعلق ایک اسلام پسند تنظیم سے ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سزا پانے والوں میں کئی ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، وکیل اور متحدہ عرب امارات کے بااثر خاندانوں کے افراد شامل ہیں۔

منگل کو سامنے آنے والے عدالتی فیصلے کے مطابق آٹھ مفرور ملزمان کو 15، 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ حکام کی تحویل میں موجود 56 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

عدالت نے پانچ ملزمان کو سات، سات سال قید کی سزا سنائی ہے جب کہ مقدمے کا سامنا کرنے والے مزید 25 افراد کو بری کردیا ہے جن میں 13 خواتین بھی شامل ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سزا پانے والے افراد اپنی سزائوں کے خلاف کسی عدالت میں اپیل نہیں کرسکیں گے۔

بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے والے تمام 94 افراد کا تعلق 'الاصلاح' نامی تنظیم سے ہے جسے اماراتی حکومت مصر کی اسلام پسند جماعت 'اخوان المسلمون' کی ایک شاخ قرار دیتی ہے۔

لیکن 'الاصلاح' سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا 'اخوان' سے کوئی تعلق نہیں البتہ دونوں تنظیموں کے نظریات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

حکام نے ان افراد کو گزشتہ سال اسلام پسندوں کے خلاف کی جانے والی چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتار شدگان پر "ایسی غیر قانونی اور خفیہ تنظیم" سے وابستگی کا الزام عائد کیا گیا تھا جو، حکام کے بقول، "اقتدار پر قبضے کے لیے ریاست کی بنیادوں کو منہدم کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے غیر ملکی تنظیموں سے بھی رابطے میں ہے"۔

'رائٹرز' کے مطابق تمام ملزمان نے خود پر عائد الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا جب کہ اکثر نے دورانِ قید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی شکایت بھی کی تھی۔

'ہیومن رائٹس واچ' سمیت انسانی حقوق کی کئی عالمی تنظیموں نے بھی مذکورہ مقدمے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرپور قرار دیتے ہوئے پوری قانونی کاروائی کو مشکوک ٹہرایا ہے۔

اماراتی حکام کی جانب سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مارچ سے جاری مقدمے کی سماعت کے دوران میں ایک بار بھی عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی جب کہ منگل کو عدالتی فیصلے کے اعلان سے قبل بھی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی متفقہ نمائندہ اور برطانوی وکیل میلین جینجل کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG