رسائی کے لنکس

یو اے ای کا مشن 60 ملین کلو میٹرز کا سفر 9 مہینوں میں طے کرکے مریخ کی سطح پر پہنچے گا۔ صدر شیخ خلیفہ بن زائد النہیان کے بقول، مریخ مشن ایک نئے دور کا آغاز اور خلائی تسخیر کے عہد میں اسلامی دنیا کی نمائندگی ہے

متحدہ عرب امارات جلد اس خلائی کلب کا نواں ممبر بننے والا ہے جو مریخ پر خلائی راکٹ بھیجنے کے پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔

ابو ظہبی کے اخبارات نے سرکاری ہل کاروں کے حوالے سے خبروں میں بتایا ہے کہ، متحدہ عرب امارات کا خلائی راکٹ سال 2021 ءمیں مریخ کے لئے روانہ ہوگا۔

سرخ سیارے، یعنی مریخ کے لئے یو اے ای کا مشن 60 ملین کلومیٹرز کا سفر نو ماہ میں طے کرکے مریخ کی سطح پر پہنچے گا۔

اب تک امریکا وہ واحد ملک ہے جس کا خلائی مشن مریخ پر اتر چکا ہے اور تحقیق میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق، اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ مریخ مشن کا مقصد یو اے ای میں خلائی ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کو فروغ دینا اور لوگوں کو ہنرمند بنانا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر، شیخ خلیفہ بن زائد النہیان کا کہنا ہے کہ یواے ای کا مریخ مشن ایک نئے دور کا آغاز اور خلائی تسخیر کے عہد میں اسلامی دنیا کی نمائندگی ہے۔ ہم یہ ثابت کریں گے کہ ہم انسانیت کی بھلائی کے لئے سائنس کے میدان میں بھی حصہ ڈالنے کے اہل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلائی مشن کے ذریعے یو ای اے کو ایرو اسپیس انڈسٹری میں اہم مقام دلانا اور خلائی ٹیکنالوجی کو ملک کی ترقی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

دبئی کے حکمراں، یو ا ے ای کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تناوٴ اور تنازعات کے باوجود مریخ مشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ عرب عوام انسانیت کی خدمت کے لئے اہم اور نمایاں کردار کر سکتے ہیں۔

ویب سائٹ ’عربین بزنس‘ کے مطابق، شیخ محمد المکتوم کا یہ بھی کہنا تھا کہ مریخ مشن ایک عظیم چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ ایسے چیلنجز آگے بڑھنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔

’یو اے ای اسپیس ایجنسی‘ مریخ مشن کی نگرانی کرے گی۔ ایجنسی انتظامی اور معاشی طورپر آزاد ادارہ ہے۔ تاہم، پروگرام کے بارے میں کابینہ کو رپورٹ کرے گی۔

اب تک امریکا وہ واحد ملک ہے جس کا خلائی مشن مریخ پر اتر چکا ہے اور تحقیق میں مصروف ہے۔

XS
SM
MD
LG