رسائی کے لنکس

شکاگو میں اسلامی تعلیمی مرکز کے قیام کی اجازت سے انکار


شکاگو میں اسلامی تعلیمی مرکز کے قیام کی اجازت سے انکار

شکاگو میں اسلامی تعلیمی مرکز کے قیام کی اجازت سے انکار

شکاگو کے ایک مضافاتی علاقے میں مقامی حکومت نے مسلمان کمیونٹی کو اپنی ملکیتی زمین پرپہلے سے موجود ایک عمارت میں مسجد اور تعلیمی سینٹر قائم کرنے کااجازت نامہ دینےسے انکار کردیا ہے۔

نیو یارک میں گراونڈ زیرو کے قریب اسلامک سینٹر کے قیام کی مخالفت کے بعد اب امریکہ کے کچھ اور شہروں میں بھی مساجد کے قیام کی مخالفت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ ۔نیویارک میں اگرچہ مقامی حکومت نے اسلامک سینٹر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ لیکن شکاگو کے ایک مضافاتی علاقے میں صورت حال اس سے مختلف ہے۔ جہاں مقامی حکومت نے مسلمان کمیونٹی کو اپنی ملکیتی زمین پرپہلے سے موجود ایک عمارت میں مسجد اور تعلیمی سینٹر قائم کرنے کااجازت نامہ دینےسے انکار کردیا ہے۔

شکاگو کے نواحی علاقے نیپ ول میں رہنے والی یہ مسلمان کمیونٹی فی الحال ایک چرچ کے ہال کو عبادت کے لیے استعمال کرتی ہےاور وہ وہاں ارشاد لرنگ سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔

مجتبیٰ نور صالح ایرانی نژاد امریکی شہری ہیں اور ارشاد لرنگ سینٹر کے بورڈ کے رکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ہر گلی کے نکڑ پر چرچ ہیں۔ مگر مساجد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمیں یہاں ابھی تک قبول نہیں کیا گیا۔ ہمارے لیے یہ ہماری شناخت کا مسئلہ ہےاور ہم تو یہاں صرف اکھٹے ہونا اور عبادت کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہاں پرورش پانے والے اپنے بچوں کو اپنے عقیدے اور تاریخ کے بارے میں معلومات دے سکیں۔

ارشاد لرنگ سینٹر کے اراکین کے پاس کوئی عمارت خریدنے کے لیے سرمائے کی کمی نہیں ہے۔ ان کی زمین پر پہلے ہی ایک عمارت موجود ہے جو کبھی ڈے کیئر سینٹر ہوا کرتی تھی۔ ان کے پاس اگر کچھ نہیں ہے تو وہ اس عمارت میں عبادت کرنے کا اجازت نامہ ہے۔ جس کے لیے مقامی حکومت نے انکار کر دیا ہے۔

کیون ودک امریکی مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم کیئر کے وکیل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ارشاد سینٹر کو اجازت دینے سے انکار کرنا 2000ءکے اس امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت مذہبی مقامات کی تعمیر کے لیے پرمٹ جاری کیے جاتے ہیں۔

اس ایکٹ کے تحت کسی مذہبی ادارے کو پرمٹ سے انکار کرکے اس پر دباو نہیں ڈالا جا سکتا یا کسی مذہبی ادارے کو اس کی اپنی عمارت اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اپریل میں کئیر نے ان اداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا جنہوں نے پرمٹ جاری کرنے سے انکار کیا تھا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پرمٹ نہ دینا امریکی آئین کی پہلی اور چودھویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ ترامیم تمام امریکیوں کے لیے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔

کیون ودک کے مطابق مقامی حکومت کے اہلکاروں کی توجہ اس بات پر ہے کہ یہ زمین رہائشی علاقے میں ہے اور وہ مذہبی اداروں کی آزادی کے بجائے وہاں رہنے والوں کے خدشات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

مقامی حکومت کے اہلکاروں نے کئی بار رابطہ کرنے پر اپنا جواب دینے سے انکار کیا۔ مگر ایک ترجمان کا، جس نے کیمرے پر آنے سے انکار کیا ، کہنا ہے کہ اجازت نہ دینے کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ اس اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق رہائشی علاقے کی زونگ سے ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد مقامی حکومت کے کئی اہلکاروں نے بھی پبلک میٹنگز میں یہ بات دہرائی ہے اور کہا ہے کہ ہر وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ بورڈ اسلام کے خلاف ہے یا مسلمانوں کوالگ کر رہا ہے، اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ ایسا نہیں ہے۔

کئیر کے وکیل کیون ودک کو یقین ہے کہ بورڈ نے علاقے کے مکینوں کے دباو میں آ کر ایسا کیا ہے۔ جبکہ مقامی حکومت کے وکیل نے درخواست دائر کی ہے کہ اس کیس کو خارج کر دیا جائے۔ جوں جوں یہ مقدمہ آگے بڑھ رہا ہے،مقامی حکومت کے اہلکار ایک نئی ترمیم لانے کی کوشش کر رہے ہیں جو مذہبی اداروں کو مستقبل میں چند مخصوص رہائشی علاقوں میں عبادت گاہیں تعمیر کرنے سے روکے گی۔

XS
SM
MD
LG