رسائی کے لنکس

یوگنڈا دھماکے: صومالی گروپ نے ذمے داری قبول کر لی

  • ب

کمپالا میں بم دھماکوں کے بعد ریسٹورینٹ میں میز اور کرسیاں بکھری پڑی ہیں

کمپالا میں بم دھماکوں کے بعد ریسٹورینٹ میں میز اور کرسیاں بکھری پڑی ہیں

صومالیہ کے شدت پسند گروپ، الشباب نے یوگنڈا میں ہونے والے دھماکوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے جِس میں فٹ بال کے درجنوں شائقین اُس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ٹیلی ویژن پر فٹ بال عالمی کپ کا فائنل دیکھ رہے تھے۔

الشباب کے ایک ترجمان، شیخ علی محمود راغے جو علی دہیری کے نام سے جانے جاتے ہیں، نےنامہ نگاروں کو بتایا کہ دوہرے بم حملے مہینوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ حملے صومالی حکومت کی حمایت میں یوگنڈا کی امن کارجتھے میں شرکت کا بدلہ تھا، جب کہ مزید حملے ابھی باقی ہیں۔

کمپالا میں عہدے داروں نے ہلاک شدگان کی تعداد 74بتائی ہے، جن میں سے زیادہ تر کی ہلاکت ایک رگبی کلب میں بڑی ٹیلیویژن اسکرین پر میچ دکھتے ہوئے ہوئیں۔ ہلاک ہونے والے باقی لوگ قریب ہی ایک ایتھیوپیائی ریستوران میں موجود تھے، جو غیر ملکیوں میں خاصا مقبول ہے۔
الشباب نے کبھی بھی صومالیہ سے باہر کوئی بڑا دہشت گرد حملہ نہیں کیا تھا۔

عالمی رہنماؤں نے اِن حملوں کی مذمت کی ہے اور اُنھوں نے یوگنڈا کی حکومت کی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ صومالیہ میں اقوامِ متحدہ کی حمایت سے کام کرنے والی حکومت کے دفاع میں یوگنڈا کے ہزاروں فوجی، الشباب اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے خلاف تعینات ہیں۔ یوگنڈا کے صدر یووری موسیوینی نے پیر کے روز جائے واردات کا دورہ کرکے ذمے داروں کے خلاف اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔

ایک پولیس عہدے دار نے کہا کہ حکومت بعد ازاں ہلاک ہونے والوں کی شہریت کی شناخت کا اعلان کرے گی۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ایتھیوپیائی ریستوران میں ایک امریکی امدادی کارکن ہلاک ہوا جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔

اِس سے قبل، یوگنڈا کےسرکاری ترجمان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں میں دو خودکش حملہ آوروں کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ بیشتر ہلاکتیں رگبی گراؤنڈ میں ہوئیں جہاں کم از کم 49 افراد مارے گئے۔

یوگینڈا کے صدر یووری موسیوینی نے پیرکو کہا کہ دہشت گردوں کو شہریوں کی بجائے فوج سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے بیشتر حصے پر الشباب کا کنٹرول ہے اور اُس نے اپنے زیر اثر علاقوں میں فٹبال ورلڈ کپ کے میچ دکھانے پر پابندی لگادی تھی ۔ موغادیشو میں الشباب کے ایک کمانڈر شیخ یوسف شیخ عیسیٰ نے بتایا ہے کہ اُنھیں حملوں پر خوشی ہے لیکن کمانڈر نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا اُن کا گروپ ان دھماکوں میں ملوث ہے یا نہیں۔

صومالیہ کی ملیشیا کمپالا میں حملوں کی دھمکی دیتی آئی ہے کیوں کہ صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کے لیے تعینات افریقی یونین امن فورس میں یوگینڈا کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ صدر اوباما نے ان بم دھماکوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی اور ان حملوں کو بزدلانہ فعل قراردیا ہے۔ صدر اوباما اور وزیرخارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر یوگنڈا نے امریکہ سے مدد کی اپیل کی تو اُسے ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

کمپالہ میں امریکی سفارت خانے نے ان بم دھماکوں میں ایک امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ میڈیا کی بعض

رپورٹوں کے مطابق تین امریکی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG