رسائی کے لنکس

کانگو: داعش کا حملہ، امن مشن کے اہلکار سمیت 24 ہلاک


فائل

فائل

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی، مامن صدیقو نے سوموار کو ایک بیان میں باغی گروپ، الائیڈ ڈیموکریٹک فورس کے ’منظم، لیکن بزدلانہ اور مجرمامہ حملے‘ کی مذمت کی ہے

عوامی جمہوریہٴ کانگو کے مشرقی سرحدی علاقے میں یوگینڈا کے باغیوں کے ایک مربوط حملے میں اقوام متحدہ کی امن کار فورس کے ایک اہلکار سمیت 24 شہری ہلاک ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہٴ خصوصی، مامن صدیقو نے سوموار کو ایک بیان میں بینی کے علاقے میں اسلامی باغی گروپ، الائیڈ ڈیموکریٹک فورس (اے ڈی ایف) کے ’منظم، لیکن بزدلانہ اور مجرمامہ حملے‘ کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ باغیوں نے اتوار کے حملے میں دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک ایرینگتی کا ایک اسپتال تھا، جبکہ دوسرا امن مشن کا اڈا تھا، جس کے قریب حملہ کرکے امن کی بحالی پر مامور اقوام متحدہ کے ایک اہلکار کو ہلاک کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ باغیوں نےحملے کے دوران لوٹ مار بھی کی اور مکانوں اور دکانوں کو آگ لگادی۔ مرنے والوں میں 12 باغی بھی شامل تھے۔

علاقے میں اقوام متحدہ کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار جوس ماریہ ارناس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں شہریوں اور طبی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا جو کہ ایک جنگی جرم ہے۔ انھوں نےیقین کا اظہار کیا کہ ’اے ڈی ایف‘ کے باغیوں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

عوامی جمہورہٴ کانگو میں بینی سمیت معدنیات سے مالامال اس شمالی کیئو صوبے میں ’اے ڈی ایف‘ کے باغیوں کے خلاف زبردست آپریشن جاری ہے۔

یہ علاقہ طویل عرصے سے پرتشدد ہنگاموں کی زد میں رہا ہے، جہاں ’ایف ڈی ایل آر‘ کے نام سے پہچانے جانے والے روانڈا کے باغیوں سمیت متعدد ملیشیا اقتدار کے لئے باہم جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔

گزشتہ برس پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا تھا کہ اس خانہ جنگی کی وجہ سے تقریبا 9 لاکھ لوگ اپنے گھروں سے بیدخل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG