رسائی کے لنکس

چین سے اقتصادی رابطوں پر پاکستان میں ایغور برادری کی رائے


ُپاکستان میں مقیم ایغور برادری کا کہنا ہے کہ صدر شی جنپنگ کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی راہداری سمیت طے پانے والے دیگر منصوبے پاکستان کے لیے تو اچھے ہیں لیکن شاید یہ اُن کے آبائی علاقے کے لیے فائدہ مند ثابت نا ہوں۔

چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں آباد ایغور برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد پاکستانی دارالحکومت سے متصل راولپنڈی شہر میں کئی دہائیوں سے آباد ہے۔

رواں ہفتے چین کے صدر شی جنپنگ کے دورہ پاکستان اور دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی راہداری سمیت طے پانے والے دیگر منصوبوں کے بارے میں اس برادری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے پاکستان کے لیے تو اچھے ہیں لیکن شاید یہ اُن کے آبائی علاقے کے لیے فائدہ مند ثابت نا ہوں۔

محمد قیوم کا خاندان لگ بھگ ساٹھ سال سے پاکستان میں مقیم ہے، اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ کاشغر سے شروع ہو گا اور اُنھیں خدشہ ہے کہ سنکیانگ کے علاقے میں چین کے کنٹرول میں اضافہ ہو گا۔

1980 کی دہائی میں بڑی تعداد میں سنکیانگ سے لوگ حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے پاکستان کے راستے سعودی عرب جاتے تھے، اور راولپنڈی کے جس علاقے میں وہ قیام کرتے تھے اُسے چائنہ مارکیٹ کے نام سے شہرت ملی۔

محمد قیوم اور اُن کی برادری کے کئی لوگ طویل عرصے سے اب بھی اس علاقے میں کارروبار سے وابستہ ہے۔

’’پاکستان کی حکومت سے ہمیں کوئی شکایت نہیں، پاکستان ہمارا گھر ہے۔ ہمیں ہر طرح کا تحفظ اور شناخت دی گئی ہے۔‘‘

تجارت سے وابستہ ایغور برادری پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون سے بظاہر خوش نظر آتی ہے۔

لیکن بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں اُن کی برادری کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان میں مقیم ایغور برادری کو اپنے آبائی علاقوں میں جانے کے لیے ویزے کے حصول میں دشواریوں کا سامنا رہتا ہے۔

چین کی حکومت کا یہ موقف ہے کہ سنکیانگ میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے وابستہ شدت پسند اس خطے میں بدامنی میں ملوث ہیں لیکن پاکستان میں مقیم ایغور برداری کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اُن کا ایسی تنظیم سے کبھی واسطہ نہیں پڑا۔

چین کے صدر شی جنپنگ نے پاکستانی پارلیمان سے خطاب میں اپنے ملک کے مغربی علاقے میں سلامتی کے لیے پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس موقع پر کہا کہ پاکستان چین کی سلامتی کو اُتنا ہی اہم سمجھتا ہے جتنا کہ خود اُسے اپنے ملک کی سلامتی عزیز ہے۔

XS
SM
MD
LG