رسائی کے لنکس

600 افغان ’مترجم‘ برطانیہ منتقل ہو سکیں گے


ایک افغان مترجم برطانوی فوجیوں کے ہمراہ مقامی لوگوں سے گفتگو کررہا ہے (فائل فوٹو)

ایک افغان مترجم برطانوی فوجیوں کے ہمراہ مقامی لوگوں سے گفتگو کررہا ہے (فائل فوٹو)

ان افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے اُن کے آبائی علاقوں میں طالبان کی طرف سے اُنھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس کے فوجیوں کے ساتھ مترجم کے طور پر کام کرنے والے 600 افغانوں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت کی دی جائے گی۔

اس تجویز کے تحت وہ مترجم جنہوں نے میدان جنگ میں کم از کم ایک سال تک کام کیا، اُنھیں اور ان کے خاندان کو برطانیہ کا پانچ سال کا ویزا دیا جائے گا جب کہ افغانستان سے منتقلی اور برطانیہ میں روزگار تلاش کرنے میں بھی مدد کی جائے گی۔

ان افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے اُن کے آبائی علاقوں میں طالبان کی طرف سے اُنھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اس سہولت کو حاصل کرنے کے اہل وہ افغان جو اپنے ملک ہی میں رہنا چاہیں گے اُنھیں پانچ سال تک تربیت اور تعلیم کے لیے ’پیکج‘ دیا جائے گا اور اس عرصہ کے دوران اُنھیں تنخواہ بھی ادا کی جاتی رہے گی۔

برطانیہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ ’’ہمیں اُن لوگوں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے جنہوں نے وہی راستہ اختیار کیا جس پر (برطانیہ) کے فوجی چلے۔‘‘
XS
SM
MD
LG