رسائی کے لنکس

خیبرپختونخواہ کی بچیوں کی تعلیم، برطانیہ کا وظائف کا اعلان


فائل

فائل

’وظائف کو بروقت اور شفاف طریقے سے بچیوں تک پہنچانے کے لیے، صوبائی حکومت کے تحت ایک جدید الیکٹرونک نظام بھی قائم کیا جائے گا، جو آزمائشی طور پر خیبر پختونخواہ کے چار ضلعوں میں بچیوں کے وظائف کے لیے استعمال کیا جائے گا‘

برطانوی حکومت نےپاکستان کے صوبہٴخیبر پختونخواہ میں لڑکیوں میں تعلیم کی شرح میں اضافےاور اسکولوں میں اُن کی حاضری بڑھانے کے لیے، چار لاکھ بچیوں کو وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

بین الاقوامی ترقی کےلیے برطانوی ادارے (ڈی ایف آئی ڈی) کے تحت دیے جانے والے وظائف کو بروقت اور شفاف طریقے سے بچیوں تک پہنچانے کے لیےصوبائی حکومت کے تحت ایک جدید الیکٹرونک نظام بھی قائم کیا جائے گا، جو آزمائشی طور پر خیبر پختونخواہ کے چار ضلعوں میں بچیوں کو وظائف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

’ڈی ایف آئی ڈی‘ کے حکام کے مطابق، اسکولوں کی چار لاکھ بچیوں کو وظائف گھر سے اسکول تک اُن کے سفری اخراجات پورے کرنے کے لیے دیے جائیں گے اور اُن وظائف کے ذریعےاسکولوں میں حاضری بھی بڑھے گی۔

ادارے کے پاکستان کے سربراہ، جارج ٹرکنگ ٹن کے مطابق، برطانیہ نے گذشتہ عرصے میں خیبر پختونخواہ میں تعلیم کی شرح بڑھانے میں وہاں کی حکومت سے قریبی تعاون کیا ہے اور ’ڈی ایف آئی ڈی‘ کا اب صوبائی حکومت کی جانب سے بچیوں کو وظائف دینے کے لیے الیکٹرانک نظام میں مدد دینا بھی اسی قریبی تعاون کا حصہ ہے۔

جارج کے مطابق، بچیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری نہ صرف اُن کے مستقبل اور خاندان پر مثبت اثر ڈالے گی بلکہ اُنھیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور سوسائٹی کا حصہ بننے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

برطانوی حکومت اس سے قبل خیبر پختونخواہ کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے عمل میں بھی صوبائی حکومت سے قریبی تعاون کرچکی ہے، جب کہ ’ڈی ایف آئی ڈی‘ اور صوبائی حکومت کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت صوبے بھر میں اسکولوں کی مرمت و بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ’پیرنٹ ٹیچر کونسل‘ (پی ٹی سی) کو 4000سے زائد وظائف دیے جائیں گے۔

یہ وظائف زیادہ تر بچیوں کے اُن اسکولوں کی باؤنڈری والز کی تعمیر میں استعمال کیے جائیں گے، جو اب تک چہار دیواری سے محروم رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG