رسائی کے لنکس

سنہ 2008 سے اب تک محکمہٴ صحت کی طرف سےفارغ کئے جانے والے ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد 669 ہے،جن میں سے63 فیصد یعنی 420 ڈاکٹروں کاتعلق بیرون ملک سے ہے

برطانوی محکمہٴصحت کی حالیہ رپورٹ کےمطابق گذشتہ پانچ برسوں میں ایسے تربیت یافتہ ڈاکٹر جنھیں تسلی بخش کار کردگی نہ ہونے کی وجہ سےمحکمہٴ صحت کے رجسٹر سے فارغ کر دیا گیا ، اُن میں سے بڑی تعداد کا تعلق بیرون ممالک سے ہے۔

’سنڈے ٹیلی گراف‘ کی خبر کے مطابق، محکمہٴ صحت کی طرف سے فارغ کئے جانے والے ایک تہائی تربیت یافتہ ڈاکٹر غیر ملکی ہیں ، جنھوں نے طب کی سند اپنے ملک سے حاصل کی ۔

برطانوی محکمہٴ صحت کی جنرل میڈیکل کونسل کی جانب سے گذشتہ پانچ برسوں میں فارغ کئے جانے والےڈاکٹروں کا ایک ریکارڈ جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق غیرتسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے فارغ ہونے والےتربیت یافتہ ڈاکٹر یا پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں فقدان کے باعث کام سے روکے جانے والے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کا تعلق انڈیا سے ہے، جبکہ نائیجریا دوسرے نمبر پر اور مصر کے ڈاکٹر کی تعداد تیسرے نمبر پر ہے۔

سنہ 2008 سے اب تک محکمہٴ صحت کی طرف سےفارغ کئے جانے والے ڈاکٹروں کی مجموعی تعداد 669 ہے،جن میں سے63 فیصد یعنی 420 ڈاکٹروں کاتعلق بیرون ملک سے ہے ۔ بقیہ 37 فیصد یعنی 249 ڈاکٹروں کا تعلق برطانیہ سے ہے۔غیر ملکی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی شرح برطانوی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔

محکمہٴ صحت کے کھاتے میں اندراج شدہ مجموعی ڈاکٹروں کی تعداد میں سےغیر ملکی ڈاکٹروں کی تعداد ایک تہائی اور برطانوی ڈاکٹروں کی تعداد دو تہائی ہے۔

غیر ملکی تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ماہرانہ تربیت پرتشویش کااظہارکئی ایسے بڑےواقعات کے رونما ہونے کے بعد کیا گیا جب ڈاکٹروں کی غفلت کےباعث کئی جانیں ضائع ہوئیں، مثلاً، ایک جرمن ڈاکٹر نے ڈیوڈ گرے کومقدار سے زائد دوا استعمال کرنے کو کہا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

جبکہ، غیرملکی ڈاکٹروں کی تسلی بخش کارکردگی نہ ہونے اور خاص کر انگریزی زبان میں مکمل مہارت حاصل نہ ہونے کے سبب وہ اپنے مریضوں تک پوری معلومات فراہم نہیں کرپاتےہیں جوزیادہ تر ڈاکٹروں کو نکالے جانےکی وجہ ہے ۔

گذشتہ ہفتے برطانیہ میں صحتِ عامہ کے ادارے ’این ایچ ایس‘ کے زیرِ انتظام ہونے والے آزادانہ جنرل فزیشن پریکٹس کےٹیسٹ میں غیر ملکی بری طرح ناکام ہوئے ، جس کے بعد میڈیکل ایسوسیشن نے صحت عامہ کے ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ

جنرل پریکٹیشنرز کو ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے چار موقعوں کی تعداد کو بڑھا ہر چھ کر دیاجائےتاکہ کامیابی کی شرح میں اضافہ ہو سکے ۔

یاد رہے کہ ایک آزاد جنرل فزیشن کی حیثیت سے کام کے آغاز سے قبل ہر ڈاکٹر کو تین سال ہسپتال میں کسی ماہر ڈاکٹر کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے ،فیل ہونے والے ٹرینی ڈاکٹروں کی بڑی تعداد کاتعلق انڈیا، پاکستان اور نائیجریا سے ہے۔

اگرچہ دولت مشترکہ کے27 ملکوں سےتعلق رکھنے والےڈاکٹروں کو برطانیہ میں کام شروع کرنے کے لیے انگلش کے ٹیسٹ سے استثنیٰ حاصل ہے ،تاہم مروجہ نظام کی بہتری کےلیے اب سب کےلیے انگریزی زبان کا امتحان لازمی قرار دئے جانے پر غور کیا جارہا ہے۔

رواں برس اکتوبر کے مہینے میں وزیر صحت نے ڈکٹروں کے لیے’ری ویلیڈیشن‘ کے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا تھاجس کا نفاذ دسمبر کے مہینے سے ہو چکا ہے کہ۔ اس کےمطابق برطانیہ کے ڈاکٹروں کو ہر پانچ سال بعد اپنی جانچ کے عمل سے گزرنا ہے۔ انھیں زیر علاج مریضوں کے تاثرات، ساتھی ڈاکٹروں کی آراء اور شعبہ طب میں استعمال ہونے والی جدید مشینوں سے آگاہی کے علاوہ نئی اور موثر ادویات کے استعمال سے متعلق کورسز پر مشتمل تحریری ثبوت محکمہ صحت میں جمع کر نے ہیں۔

اس پالیسی کو خوش آمدید کہتے ہوئے محکمہٴصحت کےچیف مسٹر ڈکسن نے اسے برطانیہ کے 150سالہ طب کی تاریخ کا سنہری دور قرار دیا۔
XS
SM
MD
LG