رسائی کے لنکس

کئی ڈاکٹر پچھلے 40سالوں سے مریضوں کا علاج کر رہےہیں, جبکہ وہ موجودہ سائنسی تحقیق اور جدید ادویات کے ذریعے علاج کے طریقوں سے یکسر ناآشنا ہیں: سرکاری اعلان

برطانوی وزیر صحت، جیرمی ہنٹ نے جمعے کو برطانوی ڈاکٹروں کے لیےایک اہم اعلان کرتے ہوئے تمام میڈیکل ڈاکٹروں کو نئی وضح کی گئی Revalidation پالیسی کے تحت اپنی کارکردگی اورصلاحیتوں کے ثبوت پر مبنی گوشوارے جنرل میڈیکل کونسل میں جمع کرانے کے لیے کہا ہے۔

اِس اعلان کی رو سے ہر جی پی ایس فیملی ڈاکٹر پر لازم ہو گا کہ وہ خود کو پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اہل ثابت کرے۔ اِس ضمن میں ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کے تاثرات ، ساتھی ڈاکٹروں کی رائےاور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے لے کر نئی اورمؤ ثر ادویات کے بارے میں معلومات سے متعلق کورسز پرمشتمل تحریری ثبوت دسمبر سےجنرل میڈیکل کونسل میں جمع کرانے ہوں گے۔

نئی پالیسی کے مطابق، ڈاکٹروں کو ہر پانچ سال بعد اپنی جانچ کے عمل سے گزرنا ہو گا اور جنرل میڈیکل کونسل کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ڈاکٹروں کے جمع شدہ کوائف کی جانچ پڑتال کرتےہوئے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے، جبکہ نا مکمل ثبوت کی موجودگی میں ڈاکٹروں کو مزید کورسز کرنے یا پھر اُن کو فرائض سے سبکدوش بھی کیا جا سکتا ہے۔

وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ'ہم چاہتے ہیں کہ یورپ میں خطرناک بیماریوں کے خلاف موئثر علاج معالجے کی بدولت بہتر صحت پانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ہر روز لوگوں کی جان بچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ لہذا، اُن کا طب کے شعبے میں ہونے والی جدید ٹیکنالوجی اور نئی ادویات سے ہم آہنگ ہونا مریضوں کے لیے سودمند ثابت ہو گا۔

ادھر، جنرل میڈیکل کونسل کے چیف ایکزیکٹیو، نیل ڈکسن نےکہا ہے کہ یہ ایک تاریخی موقعہ ہے جب برطانوی میڈیکل کے 150سال سے زائد پرانے قوانین میں ردو بدل کیا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی گذشتہ کئی برسوں سے تعطل کا شکار تھی۔

تاہم، عوام کے بہترین مفاد کو پیش نظر رکھتےہوئے یہ فیصلہ باہمی مشاورت اور منصوبہ بندی کےنتیجے میں عمل میں لایا گیا ہے۔

برطانوی صحت عامہ کا ادارہ NHS اور پرائیوٹ اداروں کی جانب سے ڈاکٹروں کی سالانہ جانچ پڑتال کا انتظام موجود ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں کے گوشوارے عموماً نامکمل اور تعداد میں بہت کم ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ڈاکٹر پچھلے 40سالوں سے مریضوں کا علاج کر رہےہیں جبکہ وہ موجودہ سائنسی تحقیق اور جدید ادویات کے ذریعے علاج کے طریقوں سے یکسر نا آشنا ہیں۔

برٹش ممبر ایسوسیشن نامی ادارے کے ایک رُکن مارک پوٹر نے اس نئی پالیسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزید افراد کے انتظامی امور میں شامل ہونے سے NHS انتظامیہ کےممبران کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گاجو اخراجات میں اضافے کا سبب بنے گا ،اس کے علاوہ اہم فیصلوں میں رکاوٹ کا بھی باعث بن سکتا ہے ۔

اِس اہم فیصلے کا بنیادی سبب عوام الناس کی بہتر صحت اور دورانِ علاج خطرات کو کم سے کم رکھنا ہے۔ہیلتھ سیکریٹری کی طرف سے اس بات کا بھی اعلان کیا گیا کہ جانچ پڑتال کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر فیملی ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹ کے ناموں پرمشتمل ایک نئی فہرست کا اجرا کیا جائے گا ۔
XS
SM
MD
LG