رسائی کے لنکس

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سال2018 تک ہائی اسٹریٹس پر واقع تمام دکانوں میں سے 20 فیصد دکانیں بند ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے تقریبا 300,000 افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں

حالیہ چند برسوں کے دوران سپر اسٹورز اور شاپنگ سینٹرز نے خریدوفروخت کے روایتی انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ریٹیل سیکٹر میں مسابقت کی ایسی فضا میں اسٹریٹ کے بازار اور دکانیں ،ان دنوں اپنی بقا کی جنگ لڑ تی نظر آرہی ہیں، جس پر رہی سہی کسر سستی آن لائن خریدوفروخت نے پوری کر دی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سالوں میں ہائی اسٹریٹ کی روایتی دکانوں کا مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔

برطانیہ میں ہائی اسٹریٹ (مرکزی سڑک پر واقع بازار) کی دکانوں کے بحران کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں ہائی اسٹریٹ پر واقع ,60 ہزار دکانیں بند ہوسکتی ہیں۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سال2018 تک ہائی اسٹریٹس پر واقع تمام دکانوں میں سے 20 فیصد دکانیں بند ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے تقریبا 300,000 افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

جیسا کہ آج کل چین اسٹورز زیادہ تر آن لائن خریداری کو فروغ دے رہے ہیں، اندازہ لگایا گیا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں آن لائن شاپنگ 12.7 فیصد کے مقابلے میں 21.5 فیصد تک بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے ہائی اسٹریٹ پر واقع ایک تہائی سے زائد چین اسٹورز کے بند ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

روزنامہ مرر کی اسی ماہ شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف رواں برس میں ہائی اسٹریٹ کی تقریباً12,000 دکانیں بند ہوسکتی ہیں ۔

جن کاروباری دکانوں کے لیے یہ خطرہ سب سے زیادہ ہے ان میں گفٹ اینڈ کارڈز، میوزک اسٹورز، ہیلتھ اینڈ بیوٹی، اسٹیشنری اور فرنیچر سمیت الیکٹرنک اور گیمز کی دوکانیں شامل ہیں ۔

لندن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ہائی اسٹریٹ کے بازار اور دکانیں خاص طور پر علاقہ مکینوں کی ضروریات زندگی کو مد نظر رکھ کر کھولی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ہرعلاقے کی مرکزی سڑک پر واقع بازار کی درجنوں دکانیں وہاں بسنے والی مقامی آبادی کی تہذیب وثقافت کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔

ہائی اسٹریٹ کا بحران پاکستانیوں کاروبار کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اس حوالے سے وائس آف امریکہ نے چند پاکستانی دکانداروں سے بات چیت کی ہے ۔

ساؤتھ ہال سے تعلق رکھنے والے فرحان گذشتہ بیس برسوں سے حلال گوشت کی دکان چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’دیکھا جائے تو آج کاروبار کو لے کر فکر مندی ضرور ہوتی ہے کہ ناجانے آنے والا وقت کیسا ہو گا کیونکہ مسابقت بڑھتی جارہی ہے ہر علاقے میں آج حلال گوشت کی ایک نہیں بلکہ کئی کئی دکانیں موجود ہیں اس لیے پہلے کی طرح اب دور دراز کےعلاقوں سے لوگ حلال گوشت کے لیے ہمارے پاس نہیں آتے‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’لندن میں پارکنگ کی جگہ کی ہمیشہ سے قلت رہی ہے لیکن آجکل تو ہائی اسٹریٹ پر کئی چکر لگانے کے بعد بھی جگہ نہیں ملتی ہے اوپر سے پارکنگ کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے اس وجہ سے بھی بہت سے لوگ ہائی اسٹریٹ کو چھوڑ کر سپر اسٹور سے خریداری کرنے لگے ہیں جہاں انھیں پارکنگ لاٹ میں فری پارکنگ مل جاتی ہے۔‘‘

فرحان نے کہا کہ لندن میں جگہ جگہ نامی گرامی سپر اسٹورز اور ان کی شاخیں کھل گئی ہیں یہ سپر اسٹور پاکستانی اشیا اور حلال گوشت بھی بیچنے لگے ہیں۔ ’’کیونکہ بڑے اسٹورز تھوک کے حساب سے سستی قیمت پر سامان خریدتے ہیں اسی لیے خریداروں کو اشیاء خورونوش ایک ہی چھت کے نیچے سستے داموں میں مل جاتی ہیں۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم گاہک کے اصرار کرنے کے باوجود سپر اسٹورز کی طرح رعایتی قیمت پر اشیاء نہیں بیچ سکتے ہیں۔‘‘

لے ٹن اسٹون ہائی روڈ پر واقع ایک گروسری اینڈ بیوٹی سپلائز اسٹور کے مالک جواد نے کہا بتایا کہ دس برس قبل ان کے والد یہ کاروبار شروع کیا تھا کہ جو وقت کے ساتھ ساتھ بہت حد تک پھیل گیا۔ لیکن ان کے بقول گاہکوں کی کمی، دوکان کا کرایہ اور ٹیکس کی شرح میں اضافے سے اشیاء کو سیل پر بیچنا ان کے بس سے باہر ہے۔

’’دوسری طرف بڑے اسٹورز آئے دن سیل پر چیزیں بیچ رہے ہیں اور پھر آن لائن شاپنگ کی سہولت نے خریداروں کو گھر کا بنا کر رکھ دیا ہے۔‘‘

اسٹریٹ فورڈ کے رہائشی حارث گذشتہ سات برس سے ایک گفٹ شاپ چلا رہے تھے لیکن پچھلے سال انھیں اپنی دکان بند کرنی پڑی۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ آن لائن خریدوفروخت کی وجہ سے لوگوں کا انتخاب وسیع ہو گیا ہے انٹرنیٹ پر انھیں بہت سے مشہور برانڈ کی چیزیں نسبتاً سستی مل جاتی ہیں۔‘‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ہائی اسٹریٹ پر اگرچہ پاکستانی روایتی کاروبار مثلا ریستوران اور کیفے اچھا بزنس کر رہے ہیں جس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لندن میں کھانے والوں کی کمی نہیں ہے لیکن ’’دیگر آسائیشوں پر اب لوگ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کر رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہائی اسٹریٹ کی بند ہونے والی بہت سی دکانوں کی جگہ کیفے اور ریستوران، جم خانے، کلینک اور دیگر پبلک سروسز کی دکانوں نے لے لی ہے ۔
XS
SM
MD
LG