رسائی کے لنکس

28 اگست کو جاری ہونے والی ایک وڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ بولام نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے اپنی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔

لیبیا میں چار ماہ تک عسکریت پسندوں کے قبضے میں رہنے والے برطانوی استاد کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ بحفاظت اپنے اہل خانہ کے پاس پہنچ گئے ہیں۔

برطانوی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ بن غازی میں یورپی اسکول کے استاد ڈیوڈ بولام کے اپنے تحفظ کی خاطر ان کے یرغمال بنائے جانے کی تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا۔

ان کی رہائی سے متعلق تفصیلات بھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔

28 اگست کو جاری ہونے والی ایک وڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ بولام نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے اپنی رہائی کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بولام کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی رہائی مشرقی لیبیا میں مقامی سیاسی دھڑے کے ذریعے عمل میں آئی۔

2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیبیا کے ایک بڑے حصے پر مختلف ملیشیا گروپوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ اس وقت سے اب تک ملک کی پولیو اور فوج مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت کے حصول کے لیے ہونے والی لڑائی پر قابو نہیں پا سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG