رسائی کے لنکس

ایک خبر کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران لارڈ نذیر احمد کو یہودیوں کے خلاف ریمارکس دینے کے الزامات کا سامنا ہے۔

برطانوی لیبر پارٹی نے ہاؤس آف لارڈز کے پاکستانی نژاد رکن اور سینیئر برطانونی سیاست دان لارڈ نذیر احمد کی جانب سے مبینہ طور پر یہودیوں کے خلاف ریمارکس پر اُن کی رکنیت معطل کرتے ہوئے اُن سے وضاحت طلب کی ہے۔

لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والی اس خبر کے بعد لارڈ نذیر احمد کی رکنیت معطل کرنے کے احکامات جاری کیے جس کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران لارڈ نذیر احمد کو یہودیوں کے خلاف ریمارکس دینے کے الزامات کا سامنا ہے۔

اخبار کے مطابق لارڈ نذیر احمد نے گزشتہ سال ایک پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھیں ڈرائیونگ قوانین پر سنائی گئی 12 ہفتے کی سزا یہودی سازش تھی اور اُنھیں پاکستان اور فلسطین کے مسلمانوں کے حق کے لیے آواز اٹُھانے کی سزا دی گئی ہے۔

لارڈ نذیر احمد کو ایک حادثے سے قبل دوران ڈارئیونگ موبائل فون کے استعمال پر 12 ہفتے قید کی سزا سنائی گئی تهی۔

لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانوی میڈیا میں چھپنے والی خبروں کے بعد لارڈ نذیر احمد کی رکنیت معطل کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر لارڈ نذیر سے منسوب بیانات درست ہیں تو وہ لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت کے اہل نہیں۔ کیوں کہ ان کے بقول لیبر پارٹی میں تعصب اور یہودی مخالف ریمارکس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

لیبر پارٹی کے ترجمان کے مطابق لارڈ نذیر احمد کی رکنیت فوری طور پر معطل کر کے اُنھیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں لارڈ نذیر احمد نے لیبر پارٹی کی طرف سے اپنی رکنیت کی معطلی پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کی وڈیو حاصل ہونے کے بعد اپنے وکلاء سے مشورہ کر کے کسی قسم کا ردعمل جاری کریں گے۔

تین ماہ قبل مبینہ طور پر امریکی صدر براک اوباما اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے قیمتیں مقرر کرنے پر بھی لیبر پارٹی نے لارڈ نذیر کی رکنیت معطل کر دی تھی جو کہ پارٹی کی تحقیقات مکمل ہونے پر بحال کر دی گئی۔
XS
SM
MD
LG