رسائی کے لنکس

برطانوی مردوں کی جبراًشادیوں میں 65 فیصد اضافہ

  • ب

برطانوی مردوں کی جبراًشادیوں میں 65 فیصد اضافہ

برطانوی مردوں کی جبراًشادیوں میں 65 فیصد اضافہ

برطانیہ میں مردوں کی جبراً شادی کے واقعات میں ایک سال کے دوران 65 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور برطانوی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر آگاہی دینے اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

برطانیہ کے دفترِ خارجہ اور داخلہ کے اشتراک سے قائم کیے گئے فورسڈ میریج یونٹ”ایف ایم یو“ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 2009ء میں مردوں کی زبردستی شادی کے حوالے سے 220 سے زائد ای میلز اور فون کالیں موصول ہوئیں جب کہ 2008ء میں ان کی تعداد 134 تھی۔

فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس کے وزیر برائے کونسلرپالیسی جیریمی براؤن کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس جبراً شادی کے 1,400 سے زائد واقعات ایف ایم یو کے سامنے لائے گئے اور ان میں سے 14 فیصد کا تعلق مردوں سے تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ گو کہ زیادہ تر واقعات میں خواتین اس مسئلے کا شکار ہوتی ہیں لیکن مردوں کو بھی خاندانی ذمہ داریوں، ویزے کے حصول اور غیر معمولی رویوں کی درستگی کے لیے رشتہ ازدواج میں باندھ دیا جاتا ہے۔

برطانوی مردوں کی جبراًشادیوں میں 65 فیصد اضافہ

برطانوی مردوں کی جبراًشادیوں میں 65 فیصد اضافہ

ایف ایم یو کے مطابق رواں سال اب تک مردوں کی جبراً شادی کے 80 سے زائد واقعات منظرعام پر آ چکے ہیں جن میں سے متعدد میں مردوں کی شادیاں خواتین سے اس لیے زبردستی کرائی گئیں کیوں کہ ان کے خاندانوں کو ان افراد کے ہم جنس پرستی کی طرف رجحان کا علم تھا۔

ایف ایم یو نے آنے والے ہفتوں میں جبراً شادی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیوں کہ ماضی میں موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران ان میں تیزی دیکھی جاتی رہی ہے۔

ادارے نے اس مسئلے سے متاثر افراد کو فورسڈ میریج پروٹیکشن آڈر حاصل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے جس کی مدد سے زبردستی کرائی جانے والی شادی روکی جا سکتی ہے یا اس کا شکار ہوئے افراد کو تحفظ مل سکتا ہے۔ اس آڈر کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

نومبر 2008ء سے اب تک ایسے 150 سے زائد آڈر جاری کیے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG