رسائی کے لنکس

یہ نوجوان ایک بار پھر ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کے لیے تیار ہیں جو اُنھیں جعلی شادی جیسے غیرقانونی عمل کے ذریعے برطانیہ کی مستقل سکونت حاصل کرنے کا خواب دکھا کر گمراہ کر رہے ہیں

برطانیہ میں مقیم پاکستانی طالب علموں کی روداد سنانے کا مقصد دراصل اس صورت حال کی منظرکشی کرنا ہے جن کا اِن دنوں بہت سے پاکستانی طالب علموں کو سامنا ہے۔

گذشتہ برس لندن میں بہت سے پرائیویٹ کالجوں کو بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد سینکڑوں ایشین طالب علموں کی برطانیہ میں حیثیت غیر قانونی ہو گئی ہے۔ ان طالب علموں میں وہ بھی شامل ہیں جنھیں نئے کالج میں داخلہ لینے کے باوجود اب تک ویزا کی معیاد بڑھنےکا انتظار ہے۔ دوسری طرف، اُنھیں کالج کی طرف سے کلاسیں اٹینڈ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

لیکن، اِنہی کالجوں میں لندن کا ایک سرکاری کالج'میٹرو پولیٹن' بھی شامل تھا جس سے ایشین طالب علموں کو اسپانسر کرنے کا حق چھین لیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بہت سےایشین طالب علموں کو اپنی پڑھائی کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا تھا۔ جبکہ، اسی ماہ برطانوی سرحد پار ایجنسی نے میٹرو پولیٹن کالج کا اسپانسرشپ لائسنس بحال کردیا ہے جس پر ایشین طالب علم سراپا احتجاج ہیں جنھیں نئے کالجوں میں اپنا کورس دوبارہ پڑھنا پڑ رہا ہے۔

اِس کے برعکس، برطانیہ میں ایسے ایشین طالب علموں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کا بنیادی مقصد تعلیم حاصل کرنا نہیں تھا۔ لہذا، انھوں نےکبھی کالج جانا ضروری نہیں سمجھا۔ وجہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اُنھیں اُن کے ایجنٹوں نے اسٹوڈنٹس ویزے کی شکل میں برطانیہ میں انٹری دلوائی ہے۔

یہ نوجوان ایک بار پھر ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کے لیے تیار ہیں جو انھیں جعلی شادی جیسے غیر قانونی عمل کے ذریعے برطانیہ کی مستقل سکونت حاصل کرنے کا خواب دکھا کر گمراہ کر رہے ہیں۔
ایک پاکستانی طالب علم، حسن نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک پرائیویٹ کالج میں بزنس اینڈ مینجمنٹ کےڈپلومہ کورس کرنے آیا تھا۔

حسن نے برطانیہ میں مستقل رہنے کی غرض سےاسی شارٹ کٹ راستے کو اپنایا اور ایک برطانوی لڑکی سے فیس بک پر دوستی کی جسے اس نے چھ ہزار پاؤنڈ کی رقم دے کر شادی کے لیے رضامند کر لیا۔ یہ رقم پاکستان سے اس کے والدین نے زمین بیچ کر بھیجی تھی۔

شادی کے دن لڑکی رجسٹرار کے آفس نہیں پہنچی۔ حسن باہر انتطار کرتا رہا اور لڑکی رقم سمیت غائب ہو گئی۔

حسن اُس فراڈ لڑکی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکتا اور شرمندگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب وہ اپنے والدین کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتا۔

رضا ایک گروسری کی دوکان پر کام کرتا ہے۔ اسے بھی نئے قانون کے مطابق پڑھائی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت حاصل نہین ہے

اُنھوں نے بتایا کہ اگرچہ میرے ویزے کی معیاد باقی ہے لیکن پھر بھی میرا ہر دن یہاں خوف کے سائے میں گزرتا ہے۔ ’میں یہ بات اپنے واالدین کو نہیں بتانا چاہتا۔ ان کی ساری امیدیں مجھ پر لگی ہوئی ہیں۔ جب بھی گھر والوں سے بات ہوتی ہے تو وہ مجھ سے بھی زیادہ پریشان ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں۔ یہاں آنے کی بالکل نہیں سوچو۔ بلکہ، کوئی اچھی لڑکی دیکھ کر شادی کرلو اور وہیں سیٹ ہوجاؤ۔ اُنھیں کیا بتاوں کہ اسٹوڈنٹس کو کوئی اپنی بیٹی نہیں دینا چاہتا۔ حتیٰ کہ میرج بیورو میں بھی اسٹوڈنٹس کو رجسٹرڈ نہیں کیا جاتا۔

س : تو پھر شادی کا خیال ذہن سے نکال دیا ہے؟

ج : نہیں۔ پیسے جمع کر رہا ہوں کیوں کہ یہاں دلہن کو جہیز دینا پڑتا ہے۔

س : تم جانتے ہو کہ بوگس میرج غیر قانونی عمل ہے؟

ج : میں اس آخری موقع کو بھی آزمانا چاہتا ہوں۔

فرحین سے میری ملاقات ایک جیولری کی دوکان پر ہوئی۔ اس نے ایک پرائیویٹ کالج سے گریجویشن کیا ہےاور ماسٹرز میں داخلہ لینا چاہتی ہے۔ فرحین نے مجھے بتایا کہ لندن میں میری کسی سے واقفیت نہیں ہے جو میری کسی مشکل میں مدد کرے۔ میں تنہا حالات کا مقابلہ کرتے کرتے تھک گئی ہوں گھر والے کہتے ہیں کسی سے شادی کر لو۔ میں بھی شادی کرنا چاہتی ہوں اور شادی کے دفتر میں اپنا نام لکھوا چکی ہوں۔

س : کیا تم سچ مچ شادی کرنا چاہتی ہو؟

ج : جی ہاں۔ میں اپنے تحفظ کے لیے شادی کرنا چاہتی ہوں۔

س :کیا تم کسی اسٹوڈنٹ سے شادی کرو گی؟

ج : نہیں، جی۔ وہ تو میرے جیسا ہی ہوگا۔ پھر تو ہم دونوں ہی ڈوب جائیں گے۔

سہیل سے میری ملاقات کچھ عرصے قبل ہوئی تھی ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ وہ شادی کر رہا ہے۔ سہیل کی عمر 27 سال، جبکہ خاتون کی عمر 42 سال ہے۔ دونوں باہمی رضامندی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن، سہیل کو خوف ہے کہ میرج رجسٹرار اس شادی پر شک کر سکتا ہے۔ جبکہ، سہیل کا کہنا ہے کہ وہ یہ شادی خاتون کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے کرنا چاہتا ہے۔

مجھے ان سبھی نوجوانوں سے بات کرنے پر یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کی مجبوریاں انھیں وہ قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے جس سے انھیں سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں برطانوی بارڈر ایجنسی جعلی شادیوں کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پرچھاپے مار رہی ہے، جس کے نتیجے میں آئے دن ایسے گروہ پکڑے جا رہے ہیں جو لوگوں کو اس غیر قانونی کام کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔

ایسی جعلی شادیوں میں دلہن مشرقی یورپی ملک سے ہوتی ہے جنھیں یورپی یونین کے قانون کے تحت برطانیہ میں رہنے اور کام کرنے کا حق حاصل ہے ان لڑکیوں کو سفری اخرجات کے علاوہ شادی کے لیےایک موٹی رقم دی جاتی ہے۔ پھر اسی روز کسی ایشین دولہے سے شادی کروائی جاتی ہے۔ اس معاونت کے لیے دولہے سے تقریبا 7 ہزار سے 14 ہزارپاؤنڈ تک وصول کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں لندن کی ایک لا فرم کے ازبک مالکان کو نقلی شادیاں کروانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے، جنھوں نے تقریبا 2 ہزار جعلی شادیاں کروا کر 20 ملین پاؤنڈ کمائے تھے۔

وی او اے نے لندن کی ایک مستند لا فرم، مارک اینڈ مارک، کے مالک بیرسٹر حسین سے اس مسئلے پر خصوصی بات چیت کی۔

س : حسین صاحب سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ شیم میرج کسے کہتے ہیں؟

ج : آپ اِسے سہولت کی شادی بھی کہہ سکتی ہیں۔ یہ شادی مستقل سکونت یا امیگریشن حاصل کرنے کی غرض سے کی جاتی ہے۔ یعنی، یہ ایک طرح کا معاہدہ ہوتا ہےجسے پیپر میرج بھی کہا جاتا ہے۔

س : سول میرج کرنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟

ج : برطانیہ میں جو بھی جوڑا شادی کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے اسے میرج رجسٹرار کے دفتر جاکر درخواست جمع کرانی ہوتی ہے۔ رجسٹرار ان سے کچھ سوالات پوچھتا ہے اور ان کی شادی کے لیے کوئی تاریخ مقرر کرتا ہے۔ شادی کے روز دولہا اور دلہن کے کاغذات پر دستخط ہوجانے کے بعد اسی روز انھیں سول میرج کا سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح شادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہو جاتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد مسلمان خاندانوں میں نکاح کا مذہبی فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔

س : کیا جعلی شادیوں کے کیس میں میرج رجسٹرار برطانوی بارڈر ایجنسی کی معاونت کرتا ہے؟

ج : کچھ عرصےقبل تک برطانیہ میں یہ قانون رائج تھا کہ شادی کے خواہشمند جوڑے کو پہلے برطانوی بارڈر ایجنسی میں درخواست جمع کروانی ہوتی تھی جو مکمل چھان بین کے بعد انھیں ایک سرٹیفکیٹ جاری کرتا تھا، جسے لے کر یہ میرج رجسٹرار کے آفس جاتے تھے اور شادی کی تاریخ لیتے تھے۔ لیکن، اس طریقہ کار پر کافی اعتراضات اٹھائے گئے۔ اب رجسٹرار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طور پر ان جوڑوں سے پوری معلومات حاصل کرے۔ اگر وہ کسی جوڑے کو شک کی بنا پر جعلی شادی کے زمرے میں شامل کرتا ہے تو یہ رجسٹرار کی ذمہ داری ہے کہ وہ بارڈر ایجنسی کو اس جوڑے کے کوائف سے مطلع کرے۔

س : رجسٹرار کس بنا پر ایک حقیقی اور جعلی شادی میں پہچان کرتا ہے؟

س : یہ ایک سادہ سی بات ہے کہ ایسےدو لوگ جو شادی کرنا چاہتے ہوں لیکن ان کی زبان ایک نہ ہو یا پھر ان کی عمروں میں بہت فرق ہو تو ان پر شک کیا جاتا ہے۔ اگر دونوں فریق قانونی طور پر مقیم ہوں تو انھیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس سے چاہیں شادی کریں۔ مسئلہ تبھی پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے ایک کی حیثیت غیر قانونی ہو۔

س : شادی کرنے کے بعد پیپر ملنے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟
ج : یہ ہر کیس کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر دونوں جاب کرتے ہیں تو انھیں 6 ماہ میں یہ پیپر مل سکتا ہے، جبکہ ایک برطانوی شہری سے شادی کرنے کے لیے 18ہزار پاؤنڈ کی سالانہ تنخواہ ہونی ضروری ہے اور چھ ماہ کا بنک اسٹیٹمنٹ دکھانے کی شرط موجود ہےجس پر شروع میں ڈھائی برس کا ویزا جاری کیا جاتا ہے جو کہ پہلے پانچ برس کا ہوا کرتا تھا۔ بارڈر ایجنسی شادی کے بعد بھی جعلی شادی کے شک کی بنا پر ویزا کینسل کرنے کا اختیاررکھتی ہے۔

س : والدین اسٹوڈنٹس سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے ہیں؟
ج : کچھ تلخ حقیقتوں کے بعد ایسا رویہ اپنایا گیا ہے ورنہ اکثر طالب علم برطانوی لڑکی سے شادی کرنے کے بعد یہیں سیٹ ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن بہت سے طالب علموں نے ایسی شادیوں کو امیگریشن حاصل کرنے کا ذریعے بنایا تھا۔ لہذا، وہ پیپر ملتے ہی ان لڑکیوں کو طلاق دے کر پاکستان سے دوبارہ شادی کرکے برطانیہ آجاتے ہیں۔ لہذا، والدین اب کسی اسٹوڈنٹ پر بھروسہ نہیں کرتے۔

س : آپ ان نوجوانوں کو کیا مشورہ دیں گے جو جعلی شادی کرنا چاہتے ہیں؟

ج : میں اس پیشے میں پچھلے 35 سالوں سے ہوں۔ لہذا، اپنے تجربے کی بنا پر یہ مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ طریقہ درست نہیں۔ کسی بھی ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم ہے۔ نقلی شادی کے ذریعے امیگریشن کا خواب دکھانے والوں کا مقصد صرف آپ سے پیسہ بٹورنا ہے۔ میرے پاس کئی ایسے لڑکے آتے ہیں جو ایسی شادی کے بعد بھی ایجنٹوں یا لڑکیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہوتے ہیں۔

اِن دنوں برطانوی بارڈر ایجنسی کے اہلکارٹھیک شادی کے روز میرج رجسٹرار کے دفتر کے باہرجعلی دولہا اور دلہن کو گرفتار کرنے کے لیے پہلےسے موجود ہوتے ہیں۔ غیر قانونی فریق کو اس کے ملک واپس بھیج دیا جاتا ہے، جبکہ دلہن کو کیس کی نوعیت کے مطابق سزا سنائی جاتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG