رسائی کے لنکس

برطانیہ سرقلم کرنے والے شدت پسند کے زخمی ہونے کی تحقیق کر رہا ہے


البغدادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زخمی ہوا لیکن اس کی بھی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی

البغدادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زخمی ہوا لیکن اس کی بھی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی

برطانوی میڈیا میں اس شخص کو "جہادی جان" کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اتوار کو اخبار 'برٹنز میل' کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ یہ گزشتہ ہفتے شام کی سرحد کے قریب عراقی علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں زخمی ہوا۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے جاری ہونے والی وڈیوز میں یرغمالیوں کے سر قلم کرنے والا شدت پسند مشتبہ طور پر ایک برطانوی شہری ہے اور وہ گزشتہ ہفتے فضائی کارروائی میں زخمی ہوا۔

برطانوی میڈیا میں اس شخص کو "جہادی جان" کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اتوار کو اخبار 'میل' کے مطابق باور کیا جاتا ہے کہ یہ گزشتہ ہفتے شام کی سرحد کے قریب عراقی علاقے میں ہونے والے فضائی حملے میں زخمی ہوا۔

اخبار کے مطابق اس گروپ کے سربراہ ابو بکر بغدادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اس حملے میں زخی ہوا۔

برطانوی دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ " ہم ان اطلاعات سے باخبر ہیں۔ ہم ان کی تصدیق نہیں کرسکتے۔"

جمعرات کو جاری ہونے والی ایک وڈیو میں مبینہ طور پر ایک بغدادی کو تقریر کرتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ اس کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہ سات روز قبل امریکی فضائی کارروائی میں زخمی ہو گیا تھا۔

امریکی حکام کہتے ہیں کہ فلوجہ میں ہونے والی فضائی کارروائی میں بغدادی کے زخمی ہونے یا نہ ہونے کی وہ تصدیق نہیں کر سکے۔

اتوار کو اخبار نے اپنے ذرائع جو کہ اس کے بقول ایک نرس ہے، کے حوالے سے بتایا کہ "جہادی جان"، بغدادی اور دولت اسلامیہ کے دیگر اہم جنگجووں کو اسپتال لایا گیا اور پھر انھیں شام کے شہر رقہ منتقل کر دیا گیا۔

اخبار کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے زخموں کی شدت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔

حالیہ مہینوں میں شدت پسندوں کی طرف سے جاری ہونے والی وڈیوز میں نقاب اوڑھے اور ہاتھ میں ایک خنجر لیے شخص کو دکھایا گیا جو انگریزی لہجے میں بات کرتا ہے۔ اس نے دو امریکیوں اور دو برطانوی مغویوں کے سر قلم کیے۔

XS
SM
MD
LG