رسائی کے لنکس

سلامتی کے خدشات، غیرملکی طلبہ کے لیے مشکلات


فائل فوٹو

فائل فوٹو

برطانیہ میں دہشت گردی کے خدشات کے تحت لگ بھگ 800 بین الاقوامی طالب علموں کو سائنس اور انجینیئرنگ کی بنیاد پر بعض مخصوص کورسز کے داخلے سے روک دیا گیا ہے

برطانیہ میں مبینہ سلامتی کے خدشات کے پیش نظر بین الاقوامی طالب علموں کو سائنس اور انجینیئرنگ کے بعض کورسوں میں تعلیم کے حصول سے روک دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں دہشت گردی کے خدشات کے تحت لگ بھگ 800 بین الاقوامی طالب علموں کو سائنس اور انجینیئرنگ کی بنیاد پر بعض مخصوص کورسز کے داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان طالب علموں کو اکیڈمک ٹیکنالوجی اپروول اسکیم (اے ٹی اے ایس) کے تحت داخلوں سے روکا گیا ہے۔

ٹیلی گراف کے مطابق برطانیہ میں یورپی یونین سے باہر کے غیر ملکی طلبہ پر برطانوی یونیورسٹیوں میں جوہری سائنس، حیاتیاتی سائنس اور کیمیائی جنگ درس و تدریس کے کورسز لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کیونکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ تعلیمی کورسز سے حاصل ہونے والی معلومات اور ضروری مواد تک رسائی کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تاہم برطانوی وزراء نے پابندی کی حدود پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اندرون ملک برطانوی نژاد طالب علموں کا احاطہ کرنے کے لیے اس پابندی میں توسیع کی جانی چاہیئے تاکہ مقامی انتہا پسندوں کو بھی اس پابندی کی گرفت سے آزاد نا رکھا جائے۔

سکیورٹی سروسز کی جانب سے برطانوی یونیورسٹیاں دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی تشویش کے پیش نظر، 2007 میں اکیڈمک ٹیکنالوجی اپروول اسکیم (اے ٹی اے ایس ) متعارف کرائی گئی تھی۔

اس اسکیم کا اطلاق یورپی یونین سے باہر غیر ملکی طلبہ پر ہوتا ہے جو برطانوی ویزے کی درخواست سے قبل سائنس اور انجینیئرنگ کے مخصوص کورسز میں داخلے کے لیے اس اسکیم سے منظوری حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دیتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق گذشتہ برس اس تعلیمی منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 20,000 درخواستیں موصول ہوئیں تھیں۔ تاہم طلبہ کے پس منظر کی معلومات کے ذریعے ان کے رجحانات اور مشاغل کے بارے میں اندازا لگائے جانے کے بعد ہی طلبہ کی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ اس اسکیم کو زیادہ قابل رسائی بنانے کے لیے نئی ویب سائٹ بھی شروع کی گئی ہے۔

ہتھیاروں کی برآمد کی کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین سرجان اسٹینلے نے کہا کہ پابندی کا اطلاق مقامی طلبہ تک محیط کیا جانا چاہیئے جو ملک کے اندر رہتے ہوئے اپنی تعلیم کو دہشت گرد حلوں کو مربوط بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 739 طلبہ کو داخلے سے روک دیا گیا ہے اور یہ حقیقت سلامتی کی شدید تشویش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

برطانوی یونیورسٹیوں کی تجربہ گاہوں کو دنیا کی بہترین تجربہ گاہوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں انتہائی اہم اور جدید تحقیق منعقد کی جاتی ہیں۔

ماضی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدام حسین کے بائیولوجیکل ویپن پروگرام میں کام کرنے والی سائنس دان ریحاب طحہ نے ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی اسکول آف بائیولوجیکل سائنس سے پلانٹ ٹوکسن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

این بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندگروپ میں شامل ہونے والے مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد لگ بھگ 3,400 تک پہنچ گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG