رسائی کے لنکس

جب ملکہ برطانیہ کی گاڑی ٹرافالگر کے راستے پر رواں دواں تھی اور مصروف شاہراہ پرٹریفک حسب معمول بری طرح سے جام تھا لہذا ملکہ عالیہ کی کاربھی دوسری گاڑیوں کی طرح اسی ٹریفک جام کا شکار بن گئی

لندن میں کینیڈین ہائی کمیشن کی عمارت کو تزئین و آرائش کے بعد جمعرات کو باضابطہ طور پر کھولنے کی ایک تقریب منعقد ہوئی جس کی مہمان خصوصی ملکہ برطانیہ کوئین الزیبتھ تھیں لیکن، دارالحکومت لندن کے علی الصبح کے بدنام ٹریفک جام سے ملکہ برطانیہ بھی نہیں بچ سکیں اور ان کی گاڑی بھی عام لوگوں کی طرح بھاری ٹریفک کے درمیان پھنس کر رہ گئی۔

روزنامہ ایکسپریس کی خبر کے مطابق وسطی لندن میں مشہور سیاحتی مقام ٹرافالگر کے ساتھ واقع 'کینیڈین ہاوس' ( کینیڈین ہائی کمیشن) کی عظیم الشان عمارت کو سال بھر کی تزئین و آرائش کے بعد آج دوبارہ کھولنے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جسے باضابطہ طور پر ملکہ برطانیہ کے ہاتھوں سے کھولا جانا تھا۔

لیکن لندن میں صبح کے وقت کے مصروف ترین ٹریفک میں ملکہ برطانیہ کی گاڑی جس وقت ٹرافالگر کے راستے پر رواں دواں تھی مصروف شاہراہ پر شدید ٹریفک جام ہوگیا لہذا ملکہ عالیہ کی کار بھی دوسری گاڑیوں کی طرح اسی ٹریفک جام کا شکار بن گئی اورعام لوگوں کےساتھ روڈ جام میں پھنسی رہی۔ تاہم ملکہ عالیہ کو لندن کا ٹریفک وقت پر تقریب میں پہنچنے سے نہیں روک سکا اور وہ ٹھیک وقت پر کینیڈین ہاوس تک پہنچ گئیں۔

اس موقع پر ان کا روایتی شان و شوکت سے استقبال کیا گیا جبکہ عمارت کے باہر موجود لوگوں نے ملکہ برطانیہ کو دیکھ کر والہانہ مسرت کا اظہار کیا اور کینیڈا سے یک جہتی کے اظہار کے لیے کینیڈین پرچم لہرایا۔ انھیں دو بچوں کی جانب سے پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔

کینیڈین ہائی کمیشن کا دفتر پہلے دو عمارتوں میں کام کر رہا تھا لیکن گذشتہ برس 'میکڈونلڈ ہاوس' کو فروخت کر دیا گیا اور کینیڈین ہاوس کی عمارت میں آرائش کا کام مکمل ہونے پر حکومت کے تمام دفاتر کو اسی عمارت میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اب یہ عمارت کینیڈین ہائی کمیشن کے فرائض انجام دی گی۔

ملکہ برطانیہ کو اس موقع پر کینیڈین ہائی کمشنر کی جانب سے عمارت کی چابیوں کا ایک سیٹ بھی پیش کیا گیا جو ایک روایت کا حصہ ہے۔ ملکہ برطانیہ سے پہلے ان کے دادا کنگ جارج پنجم کو بھی کینیڈین ہاوس کی عمارت کی چابیاں پیش کی گئی تھیں جب اس عمارت کو پہلی بار 1925 میں کھولا گیا تھا۔

لندن میں کینیڈین ہاوس کی عمارت کو کینیڈین فن و ثقافت کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اس عمارت میں کینیڈین ثقافت کے لگ بھگ 200 سے زائد شاہکار نمونوں کی نمائش کی گئی ہے۔ عمارت کے دالان کا فرش سرخ رنگ کا ہے جو شاہ بلوط کی لکڑیوں سے تیار کیا گیا ہے اس خاص حصے کو ملکہ برطانیہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر گورڈن کیمبل نے کہا کہ یہ ان لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ملکہ برطانیہ ہائی کمیشن کے دفتر کی عمارت کو دوبارہ کھولے جانے کی تقریب میں شریک ہوئی ہیں اور اس سے برطانیہ اور کینیڈا کی گہری دوستی کی عکاسی ہوتی ہے ۔

XS
SM
MD
LG