رسائی کے لنکس

اس عمل کے نتیجے میں بچہ پیدا تو اپنے اصل والدین کے ڈی این اے کے نیوکلیس سے ہی ہوتا ہے لیکن اس کا مائی ٹو کانڈریا کسی تیسرے شخص کے عطیے سے حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔

برطانیہ نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس سے ڈاکٹروں کو تین افراد سے حاصل کردہ ڈٰی این اے کے استعمال سے بچہ پیدا کرنے کی اجازت مل جائے گی۔

اس قانونی اجازت سے برطانیہ پہلا ایسا ملک بن جائے گا جہاں اس متنازع طریقہ کار کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔

اس طریقہ کار کے ذریعے مائی ٹو کانڈریا یعنی خبطی ذرے کو نکالا جاسکے گا۔ یہ وہ ذرہ ہے جو ماں کے بیضے کے خلیے میں توانائی پیدا کرتا ہے۔

اگر خبطی ذرے میں کوئی خرابی ہو تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والابچہ دل میں شدید خرابی، دماغی امراض یا صحت کے سنگین مسائل میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

سائنس دان ماں کے بیضے کے ڈٰی این اے کانیوکلیس یا مرکزہ لیتے ہیں اور اسے عطیہ سے حاصل شدہ بیضے میں ڈال دیتے ہیں جس کے ڈی این اے کا مرکزہ پہلے ہی پہلے ہی نکالا جا چکا ہوتا ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں بچہ پیدا تو اپنے اصل والدین کے ڈی این اے کے نیوکلیس سے ہی ہوتا ہے لیکن اس کا مائی ٹو کانڈریا کسی تیسرے شخص کے عطیے سے حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔

برطانیہ میں انسانی بارآوری اور جنین کی نشوونما کے ادارے کی سربراہ سیلی کیشائر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان خاندانوں کی زندگیاں بدل دے گا جنہیں بعض وراثتی بیماریوں کا مسئلہ درپیش ہے۔

تین افراد سے ایک بچے کی پیدائش کے مخالفین کا کہناہے کہ اس عمل سے جینیاتی طورپر تبدیل شدہ بچوں کی ایک نئی منڈی کی راہ کھل جائے گی۔

یہ نیا قانون پچھلے سال برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے اس طریقہ علاج کی اجازت کے لیے قانون میں ترمیم کی اجازت کے بعد سامنے آیا ہے۔

نئے قانون کے إطلاق کے بعد برطانیہ میں تین والدین کا پہلا بچہ اگلے سال پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG