رسائی کے لنکس

ناز شاہ نے اس حلقے سے ناصرف جارج گیلوے کو بھاری ووٹوں سے ہرایا بلکہ بریڈ فورڈ میں ایک بار پھر سے لیبر کی فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔

برطانیہ میں سات مئی کے عام انتخابات کے بعد سیاست کے میدان میں کئی ایسے ستارے نمودار ہوئے ہیں جنھوں نے حال ہی میں اپنے سیاسی کیرئیر کی ابتداء کی ہے لیکن ان نو آموز سیاست دان خواتین کی غیرمعمولی فتح نے انھیں راتوں رات اسٹار بنا دیا ہے۔

ناز شاہ بمقابلہ جارج گیلوے : حالیہ انتخابات میں بریڈ فورڈ کے ہائی پروفائل حلقے جہاں سے ریسپیکٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جارج گیلوے امیدوار تھے ان کے مقابلے میں لیبر پارٹی کی جانب سے پاکستانی نژاد سماجی کارکن ناز شاہ کو کھڑا کیا گیا تھا۔ عوامی جائزوں میں ناز شاہ کے مقابلے میں منجھے ہوئے سیاست دان جارج گیلوے کو تگڑا امیدوار تصور کیا جارہا تھا ۔

لیکن ناز شاہ کو کمزور امیدوار بتانے والوں کی قیاس آرائیاں اس وقت غلط ثابت ہوئیں جب بریڈ فورڈ سے آنے والے انتخابی نتیجے نے ناز شاہ کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔

ناز شاہ نے اس حلقے سے ناصرف جارج گیلوے کو بھاری ووٹوں سے ہرایا بلکہ بریڈ فورڈ میں ایک بار پھر سے لیبر کی فتح کا جھنڈا گاڑ دیا۔

لیبر پارٹی کے مطابق ناز شاہ ذہنی صحت کے ایک فلاحی ادارے شیرنگ وائسز کی چیئرپرسن ہیں وہ اس سے پہلے بچوں اور معذور بالغان کے لیے نگرانی کا کام کر چکی ہیں۔

نازشاہ نے اسکائی ٹی وی سے ایک انٹرویو میں کہا کہ لیبر کی طرف سے جب انھیں امیدوار نامزد کیا گیا تو وہ اسوقت یہ بات جانتی تھیں کہ لوگوں کی طرف سے انھیں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن انتخابی مہم اس قدر سفاکانہ ہو سکتی اس کی انھیں امید نہیں تھی۔

ناز شاہ نے جیتنے کے بعد کہا کہ انتخابی مہم کی ترشی کو یاد رکھنے کے بجائے وہ اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ بقول نازشاہ ان کی انتخابی مہم لوگوں کے لیے تھی جبکہ جارج گیلوے کی مہم ان کے خلاف تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی۔

ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق،مسٹر گیلوے کی جانب سے پوری انتخابی مہم کے دوران ناز شاہ پر ذاتی حملے کئے گئے اور ان پر جبری شادی کے بارے میں جھوٹی عمر بتانے اور اپنی ماں کے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی سمیت اسرائیل کا حمایت یافتہ امیدوار ہونے سے متعلق الزامات لگائے گئے جبکہ بعد میں ان الزامات کے حوالے سےجارج گیلوے نے ناز شاہ کی جیت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

جارج گیلوے نے 2012 میں لیبر کی رکن پارلیمنٹ مارشا سنگھ کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشست سے ضمنی انتخاب لڑا اور بریڈ فورڈ میں برادری ازم کے خلاف بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کئے۔

اس حلقے سے لیبر پارٹی نے پہلے صومالی نژاد امینہ علی کو نامزد کیا تھا جنھوں نے اپنی نامزدگی کے 72گھنٹوں بعد ذاتی وجوہات کی بناء پر امیدوار کی حیثیت سے دستبرداری پیش کر دی تھی اگرچہ لیبر قیادت کی طرف سے سینئر سیاست دان نویدہ اکرام کا نام بھی زیر غور تھا لیکن قرعہ فال پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد سماجی کارکن ناز شاہ کے نام نکلا۔

ماہیری بلیک بمقابلہ الیگزینڈر ڈگلس : خواتین ارکان پارلیمنٹ کے نئے چہروں کے درمیان 20سالہ ماہیری بلیک ممتاز ہیں۔ ایس این پی کی امیدوار اور گلاسگو یونیورسٹی کی طالبہ مس بلیک نے لیبر کی سابقہ شیڈو کابینہ کے وزیر خارجہ اور ایڈ ملی بینڈ کی انتخابی مہم کے انچارج الیگزینڈر ڈگلس کو حالیہ انتخابات میں شکست سے دوچار کیا ہے۔

ماہیری بلیک کو سترہویں صدی کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کی کم عمر ترین رکن پارلیمنٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے جبکہ یہ حلقہ ستر سالوں سے لیبر کی محفوظ نشست تھا تاہم ڈگلس نے اعتراف کیا کہ اسکاٹ لینڈ کے لوگوں کا لیبر پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔

تسمینہ شیخ بمقابلہ گورڈن بینک : لیبر پارٹی کے شیڈو کابینہ کے کاروباری امور کے وزیر گورڈن بینک کو پاکستانی نژاد ایس این پی کی امیدوار تسمینہ شیخ نے شکست دی۔ تسمینہ شیخ نے اوچل اینڈ پرتھ شائر سے چھبیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے، تسمینہ وکالت کرتی ہیں جبکہ پاکستان میں ٹی وی کے لیے ادکاری بھی کر چکی ہیں۔

روپا حق بمقابلہ اینجی برے : چالیس سالہ بنگلہ دیشی نژاد روپا حق نے لندن میں ایلنگ کے حلقے سے کنزرویٹو کی اے لسٹ رکن پارلیمنٹ اینجی برے کو شکست دی ہے۔ روپا حق لندن کی یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی پروفیسر ہیں اور ایلنگ بارو کی سابقہ نائب میئر بھی رہ چکی ہیں۔

اینڈریا جین کینز بمقابلہ ایڈ بالز :کنزرویٹو کی امیدوار اینڈریا جین کینز ان ہائی پروفائل فاتحین میں سے ایک ہیں جنھوں نے لیبر کے قد آوار سیاست دان ایڈ بالز کو مغربی یورک شائر میں لیڈز کے حلقے سے غیر متوقع طور پر شکست دی ہے۔ اینڈریا کے والدین کا تعلق ہل سے ہے۔

39سالہ اینڈریا یورک شائر میں پلی بڑھی ہیں۔ سابقہ شیڈو کابینہ کے وزیر داخلہ ایڈ بالز نے اپنی شکست پر کہا کہ ان کی ذاتی مایوسی اس دکھ کے مقابلے میں کم ہے جو لیبر کی طرف سے ملک بھر میں ظاہر ہوا ہے۔

کرسٹن اوسوالڈ بمقابلہ جم مرفی : ایس این پی کی امیدوار کرسٹن اوسوالڈ نے اسکاٹ لینڈ میں اسکاٹش لیبر پارٹی کے قائد اور شیڈو سیکرٹری آف اسٹیٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ جم مرفی کو بھاری ووٹوں سے شکست دی۔

تانیا میتھائیس بمقابلہ ونس کیبل : لب ڈیمو کرٹس کے اٹھارہ برسوں سے رکن پارلیمنٹ ونس کیبل کو لندن میں کنزرویٹو کی امیدوار تانیا میتھائیس نے ہرایا، ونس کیبل سابقہ کابینہ میں وزیر تجارت کے عہدے پر فائز تھے۔

XS
SM
MD
LG