رسائی کے لنکس

اتوار کو روس کے حامی باغیوں نے یوکرین کے مشرقی شہر اوڈیسا کے ایک پولیس تھانے پر حملہ کر کے وہاں سے لگ بھگ 70 ساتھیوں کو رہا کروا لیا ہے۔

یوکرین کی سرکاری فورسز اور روس نواز مسلح افراد کے مابین علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ مشرقی شہر سلوینسک میں پیر کو جھڑپیں ہوئیں۔ یہ مسلح لڑائی روس نواز مظاہرین کی جانب سے اوڈیسا کے شہر میں ایک تھانے پر حملے کے ایک دن بعد ہوئی۔

روس کے ایک خبر رساں ادارے نے سلوینسک میں علیحدگی پسندوں کے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ تقریباً 20 کے قریب روس نواز جنگجو جھڑپوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

یوکرین کے وزارت داخلہ کے مطابق پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ یوکرین کے فوجیوں نے سلوینسک کے باہر ایک ٹی وی ٹاور پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

اس سے قبل روس کے حامی باغیوں نے یوکرین کے مشرقی شہر اوڈیسا کے ایک پولیس تھانے پر حملہ کر کے وہاں سے لگ بھگ 70 ساتھیوں کو رہا کروا لیا ہے۔

یہ ایک ایسے وقت ہوا جب یوکرین کے وزیراعظم آرسنی یاتیسنوک نے پولیس پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے انہیں جمعہ کو تصادم کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

لگ بھگ تین سو روس نواز باغی اوڈیسا میں ایک تھانے میں زبردستی داخل ہوئے جب کہ ایک ہزار افراد نے اس کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیے رکھا۔

تھانے کی عمارت کا دروازہ اور کھڑکیاں توڑتے ہوئے حملہ آور بلند آواز میں نعرے لگا رہے تھے کہ ’’روسی کبھی اپنوں کو اکیلا نہیں چھوڑتے‘‘۔

مقامی پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ روس کے حمایتی کارکنوں اور یوکرین کی تقسیم کے مخالفین کے درمیان جمعہ کو ہونے والے تصادم کے بعد ابتدائی طور پر 170 افراد کو تحویل میں لیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ 67 کارکنوں کو رہا کیا جا چکا تھا۔

حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد اسے روکنے کے بارے میں یوکرین کی فوج اور پولیس کی استعداد کار کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کیئف کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کو ماسکو کی حمایت حاصل ہے اور روس کی خصوصی فورسز اس کا حصہ ہیں۔ لیکن روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
XS
SM
MD
LG