رسائی کے لنکس

یوکرینی رہنما کو سنائی گئی سزا پر روس کا شدید ردِ عمل


یوکرینی رہنما کو سنائی گئی سزا پر روس کا شدید ردِ عمل

یوکرینی رہنما کو سنائی گئی سزا پر روس کا شدید ردِ عمل

روسی حکومت نے یوکرین کی سابق وزیرِاعظم یولیا ٹیمو شینکو کو سات برس قید کی سزا سنائے جانے کے عدالتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مس ٹیمو شینکو کو یہ سزا اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران 2009ء میں روس کے ساتھ گیس کی خریداری کے ایک معاہدہ میں قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں سنائی گئی ہے۔

منگل کو سنائے گئے فیصلے میں ایک یوکرینی عدالت کے جج نے قرار دیا کہ سابق وزیرِاعظم اور حزبِ اختلاف کی موجودہ اہم رہنما مس ٹیمو شینکو پر مذکورہ معاہدہ میں اپنے اختیارات سے تجاوز کا الزام ثابت ہوگیا ہے۔

یوکرین کی موجودہ حکومت کا موقف ہے کہ معاہدہ کے باعث قومی خزانے کو 200 ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے فیصلے کے ردِ عمل میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی سابق وزیرِاعظم کو سنائی گئی سزا کو روس واضح طور پر "ایک مخالفانہ پیغام" سمجھتا ہے۔

بیان میں ماسکو حکومت کے اس موقف کا اعادہ کیا گیا ہے کہ 2009ء میں طے پانے والا معاہدہ روس اور یوکرین کے قوانین کے مطابق تھا۔

معاہدہ کی دستخطی تقریب میں شرکت کرنے والے روسی وزیرِاعظم ولادی میر پیوٹن نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ انہیں یہ فیصلہ مکمل طور پر سمجھ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر سوال اٹھانا "خطرناک اور نقصان دہ" عمل ہے۔

ٹیمو شینکو کے وکلاء نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔سابق وزیرِاعظم خود پر عائد الزامات کی مسلسل تردید اور اپنے خلاف دائر مقدمے کو "سیاسی انتقامی کاروائی" قرار دیتی آئی ہیں جس کا مقصد ان کے بقول یوکرین کے موجودہ صدر وکٹر ینکووچ کو اپنی اہم سیاسی مخالف کو راستے سے ہٹانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

یورپی یونین نے بھی یوکرینی عدالت کے فیصلے کو "سخت مایوس کن" قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرائن ایشٹن کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کی سابق وزیرِاعظم کے خلاف چلائے گئے مقدمے میں عالمی معیارات کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔

ترجمان کے بقول 27 ملکی یورپی اتحاد کے ساتھ یوکرین کے تعلقات پر اس فیصلے کےدیرپا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

فیصلے کے بعد یوکرین کے صدر ینکووچ نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ سابق وزیرِاعظم کا مقدمہ اب اپیلوں کی سماعت کرنے والی عدالت کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اپیلوں کی سماعت کرنے والی عدالت مذکورہ مقدمہ کو دیگر قوانین کے تحت زیرِ غور لاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ناقدین یوکرین کی حکومت سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ مس ٹیمو شینکو کے خلاف دائر مقدمے میں اختیارات سے تجاوز کی دفعہ واپس لے۔ سابق وزیرِاعظم کو سزا بھی اسی الزام کے تحت سنائی گئی ہے۔

مس ٹیمو شینکو کی جماعت 'فادر لینڈ پارٹی' کے ہزاروں حامیوں نے منگل کو دارالحکومت کِیو کی مرکزی عدالت کے باہر اپنی رہنما کو سنائی گئی سزا کے خلاف مظاہرہ کیا۔اس موقع پر پولیس نے ایک سڑک روکنے کے الزام میں کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔

سابق وزیرِاعظم کو آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حزبِ مخالف کی مرکزی امیدوار قرار دیا جارہا تھا ۔ تاہم اگر ان کی سزا برقرار رہی تو وہ انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں رہیں گی۔

سابق وزیرِاعظم ان 400 حکام میں شامل ہیں جن کے خلاف گزشتہ دورِ حکومت کے دوران مبینہ طور پر انجام دیے گئے خلافِ ضابطہ اقدامات کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے صرف سیاسی مخالفین کے خلاف ہی مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG