رسائی کے لنکس

یوکرین: جھڑپیں اور آتشزدگی، درجنوں افراد ہلاک


ملک کا تیسرا بڑا شہر اوڈیسا اب تک روس نواز علیحدگی پسندوں کی شورش سے محفوظ رہا تھا۔

ملک کا تیسرا بڑا شہر اوڈیسا اب تک روس نواز علیحدگی پسندوں کی شورش سے محفوظ رہا تھا۔

یوکرین کے تیسرے بڑے شہر اوڈیسا میں جمعے کو روس نواز اور روس مخالف گروہوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے ہیں جن میں اب تک درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں جاری احتجاجی تحریک نے ملک کے دوسرے کونے پر واقع ساحلی علاقے اوڈیسا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جہاں ہونے والی جھڑپوں اور ایک عمارت کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق یوکرین کے شمال مغرب میں بحرِ اسود کے ساحل پر واقع ملک کا تیسرا بڑا شہر اوڈیسا اب تک روس نواز علیحدگی پسندوں کی شورش سے محفوظ رہا تھا۔

لیکن جمعے کو شہر میں روس نواز اور روس مخالف گروہوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے ہیں جن میں اب تک درجنوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

حکام کے مطابق ساحلی شہر میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد جمعے کی شام تک 409 سے تجاوز کرچکی تھی جب کہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔

فسادات کے دوران مشتعل مظاہرین نے ایک تجارتی انجمن کے دفتر کو نذرِ آتش کردیا جس میں حکام کے مطابق کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہیں جن میں 10 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل یوکرین کے مشرقی شہر سلوویانسک پر قابض روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف یوکرین کی فوج نے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اسے ابتدا میں ہی بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

شہر پر قابض علیحدگی پسندوں نے جمعے کو علی الصباح کی جانے والی کارروائی میں شریک دو فوجی ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا تھا۔

یوکرین کے وزیر داخلہ ارسن ایواکوف نے کہا ہے کہ باغیوں کی جانب سے لڑائی کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انہیں روس کی بھرپور مدد حاصل ہے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ علیحدگی پسندوں نے یوکرین کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے ہیں جن کے پائلٹ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں میں سوار سات فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

جوابی کارروائی میں یوکرین کی فوج نے تین جنگجو اور دو عام شہری ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق یوکرین کی فوجی دستوں نے شہر کے نواح میں قائم باغیوں کی چوکیوں پر قبضہ کرلیا ہے لیکن انہیں شہر کے مرکزی علاقوں میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یوکرین حکومت کا الزام ہے کہ ماسکو ان باغیوں کی مالی معاونت کر رہا ہے جنہوں نے یوکرین کے مشرقی شہروں میں سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ادھر ماسکو میں روسی صدر ولادیمر پیوٹن کے ترجمان دمتری پسکوف نے کہا ہے کہ یوکرین بحران کو ختم کرنے کے لیے طے پانے والے امن معاہدے کو یوکرینی فوج کی حالیہ کارروائیوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی صبح یوکرین کے مشرقی علاقے میں سرکاری فوج کی کارروائی کے آغاز پر زودار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

روس نواز باغیوں کو کہنا ہے کہ دھماکے سلوویانسک کے بعض علاقوں میں یوکرین کی سکیورٹی فورسز کے حملوں کا نتیجہ تھے۔

مغربی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ علاقے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر نہایت نیچی پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے ایک فوٹوگرافر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹر شہر کے مضافات میں فائرنگ کر رہا تھا۔

حملے کی ان خبروں سے چند گھنٹے قبل روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ یوکرین روس کی سرحد کے ساتھ واقع اپنے شورش زدہ علاقوں سے فوجیں واپس بلا لے۔

اس سے قبل جمعرات کو یوکرین کے قائم مقام صدر الیگزینڈر ٹرچینوف نے فوج میں جبری بھرتی کے ایک فرمان پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد مشرقی علاقوں میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے یوکرینی فوج کو اضافی دستے فراہم کرنا ہے۔

صدارتی فرمان کے مطابق 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG