رسائی کے لنکس

مشرقی یوکرین میں چھ باغی ہلاک


روس نواز مسلح علیحدگی پسند

روس نواز مسلح علیحدگی پسند

یہ پہلا موقع ہے کہ یوکرین نے روس نواز باغیوں کے خلاف پوری شدت سے کارروائی شروع کی۔

یوکرین میں علیحدگی پسند رہنما ڈینس پوشیلن کا کہنا ہے کہ ڈونٹسک ایئرپورٹ کے قریب یوکرین کی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے کے لیے جانے والے چھ باغی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ پیر کو یوکرین کی فورسز نے اس مشرقی علاقے کے ہوائی اڈے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا اور اس دوران ہونے والے کارروائی میں کم ازکم 50 علیحدگی پسندوں کو ہلاک کردیا گیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ یوکرین نے روس نواز باغیوں کے خلاف پوری شدت سے کارروائی شروع کی۔

دریں اثناء کریملن کے حمایت یافتہ چیچن رہنما نے روس نواز علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے جنگجو یوکرین بھیجنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا ہو سکتا ہے کچھ لوگ اپنی ذاتی حیثیت میں وہاں گئے ہوں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے چند روز قبل کیئف کے خلاف باغیوں کی مدد کے لیے روس سے چیچن اور دوسرے جنگجو یوکرین میں داخل ہونے کی اطلاعات پر ماسکو کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔

ماسکو نے ایسی اطلاعات کو مسترد کیا تھا جس کے بعد چیچن رہنما رمضان قادیروف کی طرف سے بھی ماسکو کی آواز میں آواز ملائی گئی۔

ایک روسی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں قادیروف نے کہا کہ "ہم نے انھیں نہیں بھیجا، وہ ہرگز ہمارے ملازم نہیں۔ اگر کوئی شخص رضا کارانہ طور پر جاتا ہے تو ہمیں اسے روکنے کا کوئی حق نہیں، یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔"

انھوں نے صدر ولادیمر پوٹن کے حکم پر چیچن جنگجو یوکرین بھیجنے کے امکان کو رد نہیں کیا۔

"اگر حکم ہوتا ہے تو ہم بخوشی اس پر عمل کریں گے کیونکہ جنگجو اپنے لوگوں کا دفاع کرتا ہے اپنی دھرتی کا دفاع کرتا ہے۔ اگر ہم تصور کریں کہ ڈونٹسک میں 14 جنگجو ہیں جنہوں نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے تو اگر وہاں ایک بٹالین بھیجی جاتی تو کیا ہوتا۔"

قادیروف کی سکیورٹی سروسز پر چیچنیا کی مسلم آبادی والے علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جس کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG