رسائی کے لنکس

الیگزینڈر ٹرچینوف نے منگل کو قانون سازوں کو بتایا کہ ڈونیسٹک شہر میں حکومتی فورسز نے کارروائی شروع کردی ہے

یوکرین کے عبوری صدر نے کہا ہے کہ مشرقی علاقے میں سرکاری عمارتوں پر قابض مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔

الیگزینڈر ٹرچینوف نے منگل کو قانون سازوں کو بتایا کہ ڈونیسٹک شہر میں حکومتی فورسز نے کارروائی شروع کر دی ہے جہاں ماسکو کی حامی فورسز نے کیئف کی طرف سے پیر تک ہتھیار ڈالنے کی تنبیہ کو مسترد کر دیا تھا۔

ٹرچینوف کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن بتدریج اور محتاط انداز میں شروع کیا گیا۔

روس کے حامی مظاہرین نے پیر کو رات دیر گئے اپنی پوزیشنز کو مزید مستحکم کرنے کے علاوہ حکومتی انتباہ کے باوجود سرکاری عمارتوں کی طرف جانے والے راستوں پر مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔

مغربی حکومتیں ماسکو پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ مشرقی یوکرین میں ان مظاہرین کی پشت پنا ہی کر رہا ہے۔

ماسکو ان الزامات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتا ہے۔

یوکرین کے مشرقی خطے میں واقع کم ازکم تین شہروں میں روس کے حامی گزشہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مظاہرے کرتے چلے آرہے ہیں اور گزشتہ ہفتے انھوں نے متعدد سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

مظاہرین ان علاقوں میں بھی کرائمیا کی طرز پر روس کے ساتھ الحاق کے لیے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کیئف بھی ان مظاہروں کو کرائمیا میں اولین طور پر پیدا ہونے والی صورتحال کے مترادف قرار دیتا ہے۔

آئندہ ہفتے یورپی یونین، روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندے اس معاملے پر جنیوا میں ہونے والے ایک اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ روس نے کرائمیا میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد اسے اپنا علاقوں میں شامل کر لیا تھا۔

امریکہ اور مغربی قوتیں اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG