رسائی کے لنکس

مسٹر اوباما نے کہا کہ روس یوکرین کے خلاف اپنی ’جارحیت‘ جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں گذشتہ ستمبر میں طے ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، وہ علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے ٹینک اور بھاری گولہ بارود بھیج رہا ہے

صدر براک اوباما نے کہا ہے روس کے حامی علیحدگی پسندوں کے خلاف جاری جنگ میں، یوکرین کو دفاعی نوعیت کا ضرر رساں اسلحہ فراہم کرنا ’ایک آپشن‘ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اِس ضمن میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل کے ہمراہ، وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ روس یوکرین کے خلاف اپنی ’جارحیت‘ جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں گذشتہ ستمبر میں طے ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، وہ علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے ٹینک اور بھاری گولہ بارود بھیج رہا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ اُنھوں نے اپنی ٹیم سے کہ دیا ہے کہ تنازع کے حل میں سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں ’تمام آپشنز‘ استعمال کیے جائیں، جس میں ضرر رساں دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں آیا کون سے ضرر رساں ہتھیار ’مناسب‘ ہوں گے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا روس کو مداخلت کے مزید عمل اور یوکرین کا مزید علاقہ ہتھیانے سے باز رکھنے کے لیے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ وہ اور مز مرخیل ’سفارتی حل کی حوصلہ افزائی جاری رکھے ہوئے ہیں‘ اور اس بات سے اتفاق کیا کہ روس کے خلاف تعزیرات پر ’سختی سے‘ نفاذ جاری رہنا چاہیئے، تاوقتیکہ، ’وہ موجود راہ پر گامزن ہے‘۔

جرمن چانسلر نے کہا کہ اُنھیں یوکرین کے بحران کے سفارتی حل کی توقع ہے، حالانکہ اس سلسلے میں ناکامیاں ہو چکی ہیں، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اُنھیں تنازع کا کوئی فوجی حل دکھائی نہیں دیتا۔ مسٹر اوباما نے کہا کہ دونوں، وہ اور مز مرخیل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تنازع کے کسی فوجی حل کے کامیاب ہونے کی توقع ’کم‘ ہے۔

اِس بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے، اُنھوں نے ’بین الاوقیانوس یکجہتی‘ کی ضرورت پر زور دیا، جس کی مز مرخیل نے سر ہلا کر تائید کی۔

اتوار کو مز مرخیل چار فریق کے درمیان ٹیلی فون کانفرنس کال میں شریک تھیں، جس میں یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور فرانسیسی صدر فرانسواں اولاں شرکت کر رہے تھے۔ کال میں فرانس اور جرمن منصوبے پر بات کی گئی جس کا مقصد مشرقی یوکرین میں روس نواز بغاوت میں اضافے کا خاتمہ لانا ہے۔ چاروں رہنماؤں نے منسک میں مزید بالمشافعیٰ گفت و شنید سے اتفاق کیا۔

محکمہٴخارجہ کے ایک اعلیٰ اہل کار کے مطابق، اس فرانسیسی جرمن منصوبے کی بنیاد ستمبر میں منسک میں دستخط ہونے والی ناکام جنگ بندی پر ہے۔ لیکن، نئے منصوبے میں وقت سے متعلق زیادہ تفصیل دی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG