رسائی کے لنکس

اتوار کے دِن اپوزیشن پارٹی کے سربراہ، وِٹالی کلشکو نے کہا ہے کہ معزول صدر کو یوکرین کے حالیہ مہلک ترین پُرتشدد کارروائیوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرلینی چاہیئے

یوکرین کی حزب مخالف کے ایک چوٹی کے سیاست داں نے عبوری صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل ملک کے سابق سربراہ، وِکٹر یانوکووچ کو اُن کے عہدے سے معزول کردیا گیا تھا۔

اتوار کو پارلیمان کے استصواب رائے کے نتیجے میں، پارلیمانی اسپیکر، اولیکسندر ترشنوف، جو اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم یولیا تموشنکو کے ایک طویل عرصے سے اتحادی رہ چکے ہیں، کو اِس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

تموشنکو نے، جنھیں ہفتے کو قید سے رہائی دی گئی، ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ اس عہدے کے لیے اُن کے نام پر غور کیا جائے۔

دریں اثنا، یوکرین کے معزول صدر وِکٹر یانوکووچ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے، جس سے ایک ہی روز قبل کئیف کا علاقہ چھوڑ کر وہ ملک کے مشرقی علاقے میں اپنے مضبوط گڑھ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔

اپوزیشن پارٹی کے سربراہ، وِٹالی کلشکو نے اتوار کے دِن کہا کہ معزول صدر کو یوکرین کے حالیہ مہلک ترین پُرتشدد کارروائیوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔

اُنھوں نے یہ بات نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، ایسے میں جب یوکرین کا ایک بڑا ہجوم کئیف کے علاقے میں موجود ہے، جو مہلک احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ ہجوم یہ سننے کا منتظر ہے آیا آگے کیا ہونے والا ہے۔

یولیا تموشنکو کو اپنے دور اقتدار میں بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات کے تحت 2011ء میں سات سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ وہ ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہیں اور ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔

ہفتہ کو یوکرین کی پارلیمنٹ نے صدر کو اقتدار سے علیحدہ کرتے ہوئے 25 مئی کو انتخابات کی تاریخ کی منظوری دی تھی۔
XS
SM
MD
LG