رسائی کے لنکس

یانکووچ کی طرف سے یوکرائین کے صدارتی انتخاب میں برتری کا دعویٰ

  • ب

سرکاری طور پر 87 فیصد سے زائد گنتی کیے گئے ووٹوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد یانکووچ نے 48.5 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ ان کی حریف وزیراعظم یولیا ٹموشنکاکو 45.8 فیصد ووٹ ملے۔

یوکرائین میں حزب اختلاف کے رہنماء اور روس کے حامی وکٹریانوکوو چ نے اتوار کے روز صدارتی انتخاب کے فیصلہ کن مرحلے میں محدود برتری حاصل کرنے کے بعد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری طور پر 87فیصد سے زائد گنتی کیے گئے ووٹوں کے نتائج سامنے آنے کے بعد یانکووچ نے 48.5فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ ان کی حریف وزیراعظم یولیا ٹموشنکاکو 45.8فیصد ووٹ ملے۔

یانکووچ نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے تاہم ٹموشنکا نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے مخالف کی حامی قوتوں پر یوکرائین کے ان شمالی حصوں میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے جہاں روسی بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ ان کی انتخابی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً ایک ہزار پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کے لیے کہیں گے۔

صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج کا اعلان رواں ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔

چھ سال قبل ہونے والے انتخابات میں مسٹر یانکووچ کو مغرب کے حمایت یافتہ وکٹر یوشنکو پر فتح حاصل ہوئی تھی لیکن ان میں بھی دھاندلی کے الزمات کے بعد”اورنج ریولوشن“کے نام سے وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہرے ہوئے اور بعد ازاں یوشنکو نے 2005ء میں عہدہ صدارت اور ٹموشنکا نے وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا۔ تاہم یہ شراکت زیادہ دیر نہ چل سکی اور حالیہ انتخابات میں یہ دونوں مخالف امیدواروں کے طور پر سامنے آئے۔

یانکووچ 2004ء میں ہونے والے انتخابات کے وقت وزیراعظم تھے اور گذشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے پہلے مرحلے میں دس فیصد زائد ووٹ لے کر دوسرے مرحلے کے کامیاب اُمیدوار قرار پائے تھے ۔

XS
SM
MD
LG