رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے مشرقی یوکرین میں باغیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خاص طور پر لڑائی والے علاقوں میں جبری مشقت کے لیے عام شہریوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔

یوکرین اور باغیوں کے درمیان امن مذاکرات سے چند گھنٹے قبل مشرقی یوکرین سے تازہ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ساحلی شہر ماریوپول کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ جمعرات کو دیر گئے بھی اس علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو اور باغیوں کے سینیئر رہنما نے کہا ہے کہ وہ روسی سرحد کے قریب پانچ ماہ سے جاری لڑائی ختم کرنے کے لیے جمعہ کو ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

بیلا روس کے دارالحکومت منسک میں یورپی نگران تنظیم، یوکرین، روس اور باغیوں کے نمائندے امن منصوبے پر جمعہ کو بات چیت کر رہے ہیں۔

ادھر انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے مشرقی یوکرین میں باغیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ خاص طور پر لڑائی والے علاقوں میں جبری مشقت کے لیے عام شہریوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔

جمعہ کو ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں الزام عائد کیا کہ عام شہریوں کو بہت ہی معمولی نوعیت کے اعتراضات جیسے ہی سر عام بیئر پینے یا غیر قانونی طور پر ادویات کا استعمال کرنے پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔

تنظیم کے مطابق علیحدگی پسند شہریوں کو 30 روز تک مسلسل مشقت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انھیں "پنشمنٹ بریگیڈ" میں بھیجا جاتا ہے جہاں وہ ریت سے بوریاں بھرنے، مورچے کھودنے اور کھانے پکانے کا کام کرتے ہیں۔

تنظیم نے یہاں بعض لوگوں سے انٹرویو کیا جنہوں نے بتایا کہ انھیں ان علاقوں میں قریب واقع چیک پوائنٹ پر کام کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے جہاں یوکرین کی فورسز اور باغیوں میں لڑائی جاری ہے۔

مزید برآں جبری مشقت کے علاوہ بعض شہریوں نے دوران حراست تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی بھی شکایت کی۔ ان کے بقول انھیں تعاون پر انکار کی صورت میں علیحدگی پسندوں کی طرف سے جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں۔

XS
SM
MD
LG