رسائی کے لنکس

یوکرین: باغیوں کے انتخابات کے تناظر میں اہم مشاورتی اجلاس


صدر پوروشنکو

صدر پوروشنکو

پورشنکو نے کہا کہ" ہم نے ان کو وہ موقع فراہم کیا ۔دو نومبر کے ڈھونگ سے سارے امن عمل کو نقصان پہنچا ہے جس کو نمایاں کوششوں سے حاصل کیا گیا تھا۔"

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو روس نواز علیحدگی پسندوں کی طرف سے بظاہر کیئف سے اپنی آزادی کے اظہار کے لیے منعقد کروائے گئے انتخابات کے بعد منگل کو اپنے سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ہنگامی ملاقات کریں گے۔

پوروشنکو نے کہا کہ اتوار کے انتخابات ایک ڈھونگ اور باغیوں کے ساتھ ستمبر میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے باغیوں کو "ڈاکو، دہشت گرد اور دخل انداز" قرار دیا۔

پورشنکو نے کہا کہ "یہ جعلی انتخاب 5 ستمبر کے منسک پروٹوکول کی خلاف ورزی ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ منسک پروٹوکول کے تحت ڈونباس کے علاقے میں صرف یوکرین کے قوانین کے تحت مقامی انتخابات کروائے جا سکتے ہیں۔

پورشنکو نے کہا کہ "ہم نے ان کو وہ موقع فراہم کیا۔ دو نومبر کے ڈھونگ سے سارے امن عمل کو نقصان پہنچا ہے جس کو نمایاں کوششوں سے حاصل کیا گیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ وہ امن معاہدے کے اس حصے کو منسوخ کرنے کا سوچ رہے ہیں جس کے تحت باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کو خود مختاری کی پیش کش کی جا سکتی تھی۔

اتوار کے انتخابات کا مقصد روسی بولنے والے لوہانسک اور ڈونٹسک کے علاقوں کی روس نواز قانون ساز مجلس کے ارکان کا چناؤ کرنا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپین یونین سب نے ان انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے نتیجے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

دوسری طرف نیٹو سے منسلک امریکی ائیر فورس کے جنرل فلپ بریڈلو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک بریفنگ میں بتایا کہ یوکرین کے بحران میں ماسکو کی مبینہ مداخلت سے ان کے بقول "منجمد تنازع" کے جنم لینے کا خطرہ ہے ۔

بریڈلو نے کہا کہ ان کے خیال میں یوکرین میں 300 روسی فوجی ہیں جو باغیوں کو سازوسامان اور تربیت فراہم کر رہے ہیں اور ان کے بقول روسی فوج کی سات بٹالین یوکرین کی سرحد کی دوسری طرف روس میں موجود ہیں۔

انہوں نے اس بارے بھی متنبہ کیا کہ روس اس سرحد کو یوکرین کے علاقے کے اندر منتقل کرنے کی موثر کوشش کر رہا ہے۔

ماسکو اس بغاوت میں کسی بھی براہ راست کردار کو مسترد کرتا ہے جس میں اپریل میں روس نواز باغیوں کے کیئف کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے بعد سے اب تک 4,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کریملن نے یوکرین میں باغیوں کے شانہ بشانہ لڑنے والے روسی فوجیوں کو رضار کار قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG