رسائی کے لنکس

جان کیری نے کہا کہ روس اور امریکہ کو اس بات سے اتفاق ہے کہ یوکرین کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ جمع ہزاروں کی تعداد میں فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے، اتوار کے روز کہا کہ اِن فوجوں کی موجودگی نے یوکرین میں ’خوف کی فضا‘ پیدا کردی ہے، جس سے سفارتی مکالمے کو مدد نہیں ملتی۔

کیری نے یہ بات اتوار کی رات گئے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہی، جس سے قبل اُنھوں نے پیرس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے چار گھنٹوں تک ملاقات کی۔

امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے کہا کہ روس اور امریکہ کو اس بات سے اتفاق ہے کہ یوکرین کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق نے اس بحران کے خاتمے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں، جس کا سبب روس کی طرف سے یوکرین کے جزیرہٴ کرائمیا کو اپنے ساتھ نتھی کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوا۔

تاہم، ساتھ ہی کیری نے یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے لاوروف پر یہ بات واضح کردی ہے کہ اب بھی امریکہ روس کے اقدام کو ’غیرقانونی اور ناجائز‘ سمجھتا ہے۔

ایک علیحدہ اخباری کانفرنس میں، روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ اُنھوں نے یوکرین کی حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاکہ اقلیتوں کے حقوق اور لسانی نوعیت کے حقوق کے سلسلے میں پیش رفت کی جاسکے۔

کیری نے کہا کہ وہ واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ صدر براک اوباما سے مشورہ کریں گے، اور مستقبل میں مزید باہمی بات چیت ہوگی۔ تاہم، اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ کئیف کی حکومت کی تجاویز کو شامل کیے بغیر یوکرین کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جانا ممکن نہیں۔

اس سے قبل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب، سرگئی لاوروف کےدرمیان پیرس میں ہونے والی بات چیت چار گھنٹوں تک جاری رہنے کے بعد اتوار کی شام گئے ختم ہوگئی، جِن میں یوکرین کے معاملے پر تناؤ میں کمی لانے سے متعلق مذاکرات ہوئے۔ ملاقات کا مقصد روس کی جانب سے یوکرین کے کرائمیا کے خطے کو ضم کرنے کی روس کی کوششوں کےنتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنا تھا۔

یہ مذاکرات روسی سفیر کی رہائش گاہ پر ہوئے، جِن سے قبل جمعے کو امریکی صدر براک اوباما اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو ہو ئی تھی، جِس میں اِس بحران کے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

توقع کی جارہی تھی کہ دونوں سفارت کار آئینی اصلاحات اور نیم سرکاری دھڑوں کو غیر مسلح کرنے، بین الاقوامی مبصرین، اقلیتوں کے حقوق اوریوکرین اور روس کے مابین براہِ راست بات چیت کے بارے میں یوکرین کی حمایت سے پیش کردہ منصوبے پر گفتگو کریں گے۔

ہفتے کو روسی ٹیلی ویژن نشریات میں لاوروف نے اِن خدشات کو مسترد کیا کہ یوکرین کی سرحد کے ساتھ مجتع روسی فوجیں ملٹری مشقوں کے علاوہ کوئی اور عزائم رکھتی ہیں۔
لاوروف نے کہا کہ روس کا یوکرین کو فتح کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ ہے، نہی یہ بات اُس کے مفاد میں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ وفاق کی طرف سے علاقائی حکومتوں کو مزید خودمختاری دینا ہی یوکرین کے استحکام اور غیر وابستگی کی ضمانت ہوگی۔

یوکرین کے مشرقی علاقوں میں روسی زبان بولنے والے لاکھوں افراد آباد ہیں۔

لاوروف کے ساتھ اپنی ملاقات سے قبل، کیری نے فرانسسی وزیر خارجہ، لورا فیبو سےایک مختصر ملاقات کی۔

حالیہ دنوں کے دوران، روسی فوجوں کی تعیناتی، اور یوکرین کی سرحدوں کے قریب ٹینکوں اور جنگی جہازوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، ہفتے کے روز لاوروف نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اُن کے ملک کایوکرین فوجیں بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔

کیری سعودی عرب سے واپس واشنگٹن روانہ ہونے والے تھے، جہاں صدر اوباما نے جمعے کے روز شاہ عبد اللہ سے ملاقات کی، جب اُنھیں لاوروف کے بیان کے بارے میں بتایا گیا۔ اِسی دوران، ’ریفیولنگ‘ کےلیے امریکی وزیر خارجہ کے طیارے نے آئرلینڈ کےشہر شانون سے پیرس کا رُخ کیا۔

یوکرین کے قریبی ہمسایہ ممالک ، یعنی سابق سوویت جمہوریہ ریاستوں نے 20 سے زائد برس قبل روس سے علیحدگی اختیار کی تھی؛ اور مشرقی یورپ کے سابق روسی حامی ملکوں نے روس کی طرف سے یوکرین پر ڈالے گئے دباؤ کی سخت مذمت کی ہے، اور اُن کی آواز کی پورے مغربی یورپ میں بازگشت سنائی دیتی ہے۔

گذشتہ ماہ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کثرت رائے کے ذریعے منظورہونے والی قرارداد کے ذریعے روس کی طرف سے کرئمیا کے الحاق کے روسی عزائم کی مخالفت کی تھی۔
XS
SM
MD
LG