رسائی کے لنکس

کیری نے کہا کہ گذشتہ چند دِنوں کے دوران، روس 'بالکل کھلم کھلا' اور 'من مانی پر مبنی چال پر گامزن ہوگیا ہے' اور بین الاقوامی برادری اُس کے خلاف اضافی تعزیرات عائد کرنے پر غور کر رہی ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ آئندہ چند دِنوں کے دوران، صدر براک اوباما روس کے خلاف ممکنہ نئی تعزیرات سے متعلق جائزہ لے کر اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ امریکہ کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیئے۔

کیری نے یہ بات لندن میں کہی، جس سے قبل اُنھوں نے برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ سے گفتگو کی، جن میں روس کی جانب سےمشرقی یوکرین میں مسلح سرکشی کی پشت پناہی کرنے پر دھیان مرکوز کرنے پر زور شامل تھا۔

اس سے قبل، ہفتے ہی کے روز کیری نے کہا کہ گذشتہ چند دِنوں کے دوران، روس 'بالکل کھلم کھلا' اور 'من مانی پر مبنی چال پر گامزن ہوگیا ہے' اور بین الاقوامی برادری اُس کے خلاف اضافی تعزیرات عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

کیری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ اور اُس کے اتحادی، بقول اُن کے، روس کے 'غیرمعمولی طور پر ڈرپوک انداز' کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

اُنھوں نے اس بات پر توجہ دلائی کہ اقوام متحدہ میں روس نے یہ کوشش کر رکھی ہے کہ مشرقی یوکرین کی کشیدہ صورت حال کا ذمہ دار یوکرینی حکومت کو ٹھہرایا جائے، جس رویے کو مسٹر کیری نے، خطے میں 'زمین پر جبری قبضہ' جمانے کا انداز قرار دیا۔

جمعے کو، یوکرینی صدر پیترو پوروشنکو نے روس پر گذشتہ سال کئیف کے 'میدان چوک' پر روس مخالف مظاہرین پر گھات لگا کر گولیاں چلانے اور ہلاکتوں کا براہِ راست ذمے دار قرار دیا۔

ہلاکتوں کے واقعے کو ایک سال گزرنے کے موقع پر، اُنھوں نے الزام لگایا کہ سکیورٹی اداروں کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے اس الزام کو 'من مانی' اور 'دیوانگی' قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG