رسائی کے لنکس

یوکرائن: حکومت اور حزبِ اختلاف میں معاہدہ


یوکرائن کے صدر اور حزبِ اختلاف کے رہنما سمجھوتے پر دستخط کے لیے صدارتی محل میں موجود ہیں

یوکرائن کے صدر اور حزبِ اختلاف کے رہنما سمجھوتے پر دستخط کے لیے صدارتی محل میں موجود ہیں

سمجھوتے کے تحت روس نواز صدر یونوکووچ یورپ نواز حزبِ اختلاف کو کئی رعایتیں دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں

یوکرائن کی حکومت اور حزبِ اختلاف نے یورپی یونین کی کوششوں سے طے پانے والے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد ملک میں جاری سیاسی بحران ختم کرنا ہے۔

سمجھوتے کے تحت روس نواز صدر یونوکووچ یورپ نواز حزبِ اختلاف کو کئی رعایتیں دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں جن میں صدارتی انتخاب رواں سال کرانے، صدر کو حاصل اختیارات میں کمی کے لیے آئین میں ترامیم اور ایک قومی حکومت کا قیام سرِ فہرست ہیں۔

جواباً حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے گزشتہ دو ماہ سے جاری حکومت مخالف پرتشدد احتجاجی مظاہرے ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے جن میں اب تک درجنوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

فریقین نے جمعے کو دارالحکومت کیوو کے صدارتی محل میں یورپی نمائندوں کے موجودگی میں سمجھوتے پر دستخط کیے۔ فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے یورپی نمائندوں نے بھی سمجھوتے پر بطور گواہ دستخط کیے تاہم تقریب میں موجود روس کے سفیر نے معاہدے کی توثیق سے گریز کیا۔

فریقین کے سمجھوتے پر اتفاقِ رائے میں اہم کردار ادا کرنے والے جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر اسٹین میئر نے کہا ہے کہ سمجھوتے کے تحت صدارتی انتخاب رواں سال ہوگا جسے مارچ 2015ء میں ہونا تھا۔ لیکن فی الحال انتخاب کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایک اور ثالث اور پولینڈ کے وزیرِ خارجہ ریڈوسلا سکورسکی نے معاہدے کو "یوکرین کے ایک اچھا سمجھوتہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قیامِ امن اور اصلاحات کا راستہ کھلے گا۔

معاہدے پر دستخط سے قبل پولش وزیرِ خارجہ نے کیوو کے مرکزی چوک پر جمع مظاہرین کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی جس کے بعد ان کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ مظاہرین نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو معاہدے پر دستخط کی اجازت دیدی ہے۔

سمجھوتے کے اعلان کے ایک گھنٹے بعد ہونے والے اجلاس میں یوکرائن کی پارلیمنٹ نے کثرتِ رائے سے 2004ء کا آئین بحال کرنے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعدصدر بعض اختیارات سے محروم ہوگئے ہیں اور حکومت سازی اور وزیرِاعظم کے چناؤ جیسے معاملات کا اختیار پارلیمنٹ کو مل گیا ہے۔

پارلیمان کے اجلاس کے دوران کئی مواقع پر ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جب کہ ایک موقع پر مسلح پولیس اہلکار بھی اس کمرے میں داخل ہوگئے جہاں پارلیمان کا ہنگامی اجلاس جاری تھی۔ تاہم، حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے مطابق، پولیس اہلکار فوراً ہی کمرے سے باہر نکل گئے۔

صدر یونوکووچ کی جانب سے یورپ کے بجائے روس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کے اعلان سے شروع ہونے والی سیاسی محاذ آرائی اور پرتشدد مظاہروں کے دوران صرف رواں ہفتے 77 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو 1991ء میں سوویت یونین سے آزاد ہونے والے یوکرائن کی سیاسی تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپو ں میں 500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یوکرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ہنگاموں میں پولیس کے تین اہلکار بھی مارے گئے ہیں جب کہ 50 سے زائد اہلکار اسپتالوں میں داخل ہیں جن میں سے 30 کو گولیاں لگی ہیں۔

گزشتہ روز یورپی یونین نے پرتشدد واقعات میں ملوث یوکرائنی اہلکاروں پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ امریکہ نے بھی ہلاکتوں میں ملوث عہدیداران کے خلاف اسی نوعیت کی تادیبی کاروائیوں کا عندیہ دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG