رسائی کے لنکس

’جنگ بندی جاری رہ سکتی ہے، اگر شرائط پوری کی جائیں‘


روس نواز علیحدگی پسند

روس نواز علیحدگی پسند

یوکرین کے صدر، پیترو پوروشنکو نے کہا ہے کہ اگر چند شرائط پوری کی جائیں، تو وہ روس نواز علیحدگی پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی روکتے ہوئے، جنگ بندی کو دوبارہ بحال کرنے پر تیار ہیں

جمعرات کے دِن یوکرینی صدر کی ویب سائٹ پر کہا گیا کہ اُنھوں نے امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو میں مشرقی یوکرین کی صورت حال پر بات کی۔

اس میں مسٹر پوروشنکو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اُنھوں نےبائیڈن کو بتایا کہ اگر اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ دونوں فریق جنگ بندی پر عمل کررہے ہیں تو وہ اُسے بحال کرنے پر تیار ہیں، اس شرط پر کہ تمام یرغمالی رہا کیے جائیں اور سلامتی اور تعاون سے متعلق یورپی تنظیم کی زیر نگرانی یوکرین روس سرحد پر کنٹرول قائم ہو۔

بیس جون کو، صدر پوروشنکو نے ہفتے بھر کے لیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا ، جسے بعدازاں تین دِن کے لیے توسیع دی گئی تھی۔ باغیوں کی طرف سے عدم تعاون کی مثال دیتے ہوئے، اُنھوں نے اِس میں دوسری بار توسیع نہیں دی اور منگل کو نئی فوجی کارروائیوں کے احکامات جاری کیے۔

اس سے قبل جمعرات ہی کو صدر پوروشنکو نے اعلیٰ دفاعی اہل کاروں کو تبدیل کیا، جن میں ولیری ہیلیٹی کو یوکرین کا نیا وزیر دفاع اور وکٹر مزنکو کو فوج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا۔

جمعرات ہی کے دِن، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل اور فرانسسی صدر فرانسواں ہولاں نے کانفرنس کال کے ذریعے یوکرین کی صورت حال پر بات چیت کی۔

مسٹر ہولاں کے دفتر نے بتایا ہے کہ مز مرخیل نے مسٹر پیوٹن پر زور دیا کہ علیحدگی پسندوں سے کہیں کہ وہ مذاکرات کریں اور یوکرین کے حکام کے ساتھ ایک سمجھوتا طے کریں۔

کریملن نے کہا ہے کہ روسی صدر نے شہری آبادی کی ہلاکتوں میں اضافے اور جنوب مشرقی یوکرین کی طرف سے روسی علاقے میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG