رسائی کے لنکس

یوکرین کے ان صدارتی انتخابات میں امیدوار کے لیے 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں بصورت دیگر انتخابات کا دوسرا مرحلہ 15 جون کو منعقد ہوگا۔

یوکرین میں اتوار کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں جنہیں کئی ماہ سے جاری بدامنی اور مشرقی خطے میں روس نواز علیحدگی پسندوں کی مزاحمت کے شکار ملک کے لیے ایک اہم مرحلہ قرار دیا جارہا ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں یورپ کی بجائے روس کی طرف جھکاؤ رکھنے والے صدر وکٹریانوکووچ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ فروری میں ان کی اقتدار سے برخاستگی پر ختم ہوا۔

لیکن اس کے بعد بھی سابق سوویت ریاست یوکرین میں حالات سنبھل نہ سکے اور جزیرہ نما کرائمیا کے روس کے ساتھ الحاق کے بعد مشرقی علاقوں میں بھی علیحدگی پسند ماسکو سے الحاق کا مطالبہ لیے کیئف کی حکومت کے خلاف کھڑے ہوگئے۔

اتوار کو پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوا جو کہ 12 گھنٹوں تک جاری رہے گا۔

مشرقی علاقوں میں روس نواز باغیوں نے انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

صدارتی انتخابات میں 21 امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن میں کنفکشنری کے کاروبار کی ارب پتی شخصیت پٹرو پوروشنکو کو سب سے مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ وہ "چاکلیٹ کنگ" کے نام سے بھی معروف ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پوروشنکو کے بعد سابق وزیراعظم یولیا تیموشنکو کی جیت کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

23 سال قبل آزادی حاصل کرنے والے یوکرین کے ان صدارتی انتخابات میں امیدوار کے لیے 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہیں بصورت دیگر انتخابات کا دوسرا مرحلہ 15 جون کو منعقد ہوگا۔
XS
SM
MD
LG