رسائی کے لنکس

وزیر داخلہ ارسن ایواکوف نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’میں دوبارہ کہوں گا کہ وہ جو ڈائیلاگ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کریں۔

یوکرین کے وزیر داخلہ ارسن ایواکوف نے بتایا کہ مسلح افراد نے ہفتہ کو ملک کے مشرقی شہر سلاونسک میں پولیس کے محکمے کی عمارت پر قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرین میں روس کے حامیوں کی جانب سے ملک کے مشرقی علاقوں میں سرکاری عمارتوں پر قبضے کا یہ تازہ واقعہ ہے۔

وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ 'فیس بک' پر کہا کہ مسلح افراد نے وردیاں پہن رکھی تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ردعمل انتہائی سخت ہو گا کیوں کہ ''مظاہرین اور دہشت گردوں میں فرق ہے۔''

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مسلح افراد نے کسی طرح کے مطالبات نہیں کیے اور نا ہی اپنی شاخت ظاہر کی۔

سلاونسک کا علاقہ ڈونسٹک کے قریب واقع ہے۔

یوکرین کے مشرقی شہروں لوہانسک اور ڈونٹسک میں سرکاری عمارتوں پر مظاہرین نے قبضہ کر رکھا ہے اور روس کے حامی مظاہرین ان علاقوں کو بھی یوکرین سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔

یوکرین کی حکومت کی طرف سے مشرقی شہروں میں مظاہرین کو سرکاری عمارتوں کا قبضہ چھوڑنے کی دی گئی مہلت جمعہ کو ختم ہو گئی تھی لیکن تاحال مظاہرین کے خلاف کسی طرح کی کارروائی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ ارسن ایواکوف نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’’میں دوبارہ کہوں گا کہ وہ جو ڈائیلاگ چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کریں۔ وہ لوگ جنہوں نے ہتھیار اٹھائے، عمارتوں کو آگ لگائی، لوگوں پر گولیاں چلائیں اور خوفزدہ کیا، اُن کو مناسب ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

یوکرین کے وزیراعظم ارسینے یتسنیوک نے جمعہ کو ملک کے مشرقی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اُنھوں نے روس کے حامی مظاہرین سے سرکاری عمارتوں کا قبضہ ختم کرنے اور ہتھیار پھینکنے پر اس علاقے کو مزید خود مختاری دینے کی پیشکش بھی کی۔
XS
SM
MD
LG