رسائی کے لنکس

یوکرین میں ’قومی اتحاد‘ مذاکرات کا آغاز


عبوری وزیراعظم ارسنی یتسنیوک

عبوری وزیراعظم ارسنی یتسنیوک

بات چیت میں یوکرین کے عبوری وزیراعظم ارسنی یتسنیوک، قانون ساز اور مقامی عہدیدار شریک ہیں لیکن علیحدگی پسند باغی اس کا حصہ نہیں ہیں۔

یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں سات اہلکاروں کی ہلاکت کے ایک روز بعد بدھ کو "قومی اتحاد" کے مذاکرات کا آغاز ہوا۔

یہ بات چیت آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ نامی تنظیم کی طرف سے تیارہ کردہ منصوبے کے تحت ہو رہی ہے۔ بات چیت میں یوکرین کے عبوری وزیراعظم ارسنی یتسنیوک، قانون ساز اور مقامی عہدیدار شریک ہیں لیکن علیحدگی پسند باغی اس کا حصہ نہیں ہیں۔

منگل کو کراماتورسک میں ہونے والا حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب جرمنی کے وزیر خارجہ یوکرین میں تھے اور ان کے دورے کا مقصد ملک کو درپیش بحران کے مذاکراتی حل کے لیے کوششوں کو تیز کرنا تھا۔

جرمن عہدیدار فرینک والٹر سٹیئنمیئر نے کیئف میں گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار کیا تھا کہ حکومت کی حمایت سے یوکرین کے سیاستدانوں اور سول گروپس کے درمیان ہونے والے ’’گول میز مذاکرات‘‘ سے 25 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل علیحدگی پسندوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد مل سکے گی۔

دریں اثناء امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تصاویر جاری کی ہیں جن میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس افواج کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ماسکو گزشتہ ہفتے یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ اس نے اپنی فوجوں کی ایک بڑی تعداد کو وہاں سے واپس بلا لیا ہے۔

روس کے وزارت خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ وہ توقع کرتا ہے کہ مشرقی یوکرین میں روس کے حامی کئیف کی طرف سے ’’تادیبی کارروائیاں‘‘ روکنے اور وہاں سے سکیورٹی فورسزکو واپس بلانے کی صورت میں ’’مناسب ردعمل‘‘ کا اظہار کریں گے۔
XS
SM
MD
LG