رسائی کے لنکس

مشرقی یوکرین مظاہرے، امریکہ کا روس کو انتباہ


وائٹ ہاؤس ترجمان نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ نے روس کو بتا دیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں دخل اندازی بند کرے، اور دھمکی دی کہ اگر روس ایسے حربوں سے باز نہ آیا، تو اُس کے خلاف مزید تعزیرات لاگو ہوں گی

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس ’پختہ ثبوت‘ ہیں کہ اتوار کو یوکرین کے تین مشرقی شہروں میں ہونے والے روس نواز مظاہروں میں، جس دوران سرکاری عمارات پر قبضہ کیا گیا، کچھ شرکا مقامی لوگ نہیں تھے، اور کرائے پر لائے گئے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے پیر کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اوباما انتظامیہ نے روس کو بتا دیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں دخل اندازی بند کرے، اور دھمکی دی کہ اگر روس ایسے حربوں سے باز نہ آیا، تو اُس کے خلاف مزید تعزیرات لاگو ہوں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر روس مشرقی یوکرین میں براہ راست یا خفیہ طور پر پیش قدمی کرتا ہے، تو اِسے ’سنگین اشتعال انگیزی‘ خیال کیا جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نےپیر کے روز اپنے روسی ہم منصب، سرگئی لاوروف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جو یوکرین سے متعلق تبادلہ ٴخیالات کے طویل سلسلے کی ایک تازہ ترین کوشش تھی۔

محکمہ خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے بتایا کہ کیری نے لاوروف سے کہا کہ اتوار کے دِن مشرقی یوکرین میں ہونے والے واقعات ’ازخود‘ رونما نہیں ہوئے۔

کیری نے روس پر زور دیا کہ وہ علیحدگی پسندوں، ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کی پیشت پناہی نہ کرنے کا اعلان کرے۔

پینٹاگان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ علاقے میں یورپی اتحادیوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے مریکی بحریہ کا ایک جہاز بحیرہٴاسود کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔ یہ بحری جہاز ایک ہفتے کے اندر اندر وہاں پہنچ جائے گا۔

نیٹو نے پیر کو اعلان کیا کہ کرائمیا کے بحران کے پیش نظر، برسلز کے نیٹو ہیڈکوارٹرز کی روسی سفارت کاروں، روسی سفیر، اُن کے معاون اور امدادی عملے کے دواہل کاروں کی رسائی کو ’محدود‘ کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل، یوکرین کے قائم مقام وزیر اعظم نے روس پر دونسک، لہانسک اور خارکیف کے شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔

یوکرین کے وزیر اعظم نے الزام لگایا ہے کہ علیحدگی پسند مظاہرے روس کی پشت پناہی میں ہوئے، جس دوران اتوار کو مشرقی یوکرین کے تین شہروں کی سرکاری عمارات پر قبضہ کرنا شامل تھا۔ آرسنی یاتسنیوک نے پیر کے روز کابینہ کے اجلاس کو بتایا کہ دونسک، لہانسک اور خارکیف کے مشرقی شہروں میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی روس نے ہی پشت پناہی کی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ مظاہرے صاف طور پر ایک منظم منصوبے کا حصہ تھے، جِن کا مقصد صورت حال کو غیر مستحکم کرنا ہے، تاکہ ’غیرملکی‘ فوجیں سرحد پار کرلیں اور یوکرین کے علاقے پر قبضہ جما لیں۔

مسٹر یاتسنیوک نے کہا کہ روسی فوجیں یوکرین سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات کی گئی ہیں۔

رائٹرز خبر رساں ادارے نے خبر دی ہےکہ یوکرین کے قائم مقام صدر، اولکسندر تُرچنیف نے بھی اتوار کے روز ہونے والے مظاہروں کا الزام روس پر دھرا ہے، اور الزام لگایا کہ یہ کرائمیا کی طرز پر چلنے کی ایک کوشش تھی۔

اُنھوں نے عہد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اس سے قبل، یوکرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ روس نواز مسلح افراد نے لہسانک کے مشرقی شہر میں سلامتی کے سرکاری ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اُن تین شہروں میں سے ایک ہے جہاں اتوار کے دِن حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

حکام نے بتایا ہے کہ پولیس نے شہر میں داخل ہونے والے تمام راستے بند کردیے ہیں۔

مظاہرین نے لہانسک کے علاوہ ایک اور مشرقی شہر، دونسک میں ریلیاں نکالی تھیں، جہاں اُن کا ٹاکرا ہنگاموں سے نبردآزما ہونے پر مامور پولیس سے ہوا، جہاں نقاب پوش مظاہرین نے اُن پر پٹاخے پھینکے۔

مارچ کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ اِن شہروں میں ریفرینڈم منعقد کیے جائیں جو یہ طے کریں کہ وہ یوکرین یا روس کا حصہ بنیں گے، جو گذشتہ ماہ کرائمیا کی طرح کا ریفرینڈم ہونا چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG