رسائی کے لنکس

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقی یوکرین کو اسلحے کی رسد فراہم کرنا بند کرے، جس سے روس ایک مدت سے انکار کرتا آیا ہے

مِنسک میں، یوکرین اور روس کے صدور کی ملاقات مشرقی یوکرین کے بارے میں تنازع کو ختم کرنے میں ناکام رہی، جس میں اپریل سے اب تک 2000سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

منگل کو ہونے والی گفتگو کا نتیجہ مطالبوں کی دو فہرستوں کی صورت میں نکلا، نہ کہ کسی معاہدے پر منتج ہوا، جس کا جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے مطالبہ کیا تھا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین سے مطالبہ کیا کہ مشرقی یوکرین کے حصوں میں لڑائی کو ہوا نہ دی جائے۔ اُنھوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر یوکرین جون میں یورپ کے ساتھ کیے گئے تجارتی سمجھوتے پر عمل درآمد کرتا ہے، تو اُس کے خلاف معاشی مزاحمت کا اقدام کیا جائے گا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقی یوکرین کو اسلحے کی رسد فراہم کرنا بند کرے، جس سے روس ایک مدت سے انکار کرتا آیا ہے۔

اس ملاقات سے کچھ ہی گھنٹے قبل، یوکرین نے پیر کے روز مشرقی یوکرین میں پکڑے گئے روسی فوجیوں پر بنائی گئی ایک وڈیو جاری کی اور ایک بار پھر روس پر براہِ راست مداخلت کا الزام لگایا۔

روسی وزارت ِدفاع کے اندر کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ عام گشت کے دوران، روسی فوجیوں نے غیر ارادی طور پر ایک غیر نشاندہی والے سرحدی حصے کو عبور کیا۔ یوکرین نے کہا ہے کہ روس کو چاہیئے کہ اُس کی سرحدوں کی حرمت کا خیال رکھے۔

مسٹر پیوٹن نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ روسیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والی آبادی کے نمائندوں سے پُرامن ملاقات کرسکیں۔

یہ التجا متعدد روسی قافلوں کے یوکرین داخل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر امدادی سامان موجود تھا، جس کے بارے میں یوکرین کی حکومت کا خیال ہے کہ اِن قافلوں میں روس کے ساتھی باغیوں کے لیے اسلحے کی رسد شامل تھی۔

یوکرین روس بات چیت سے قبل، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لکاشنکو نے کہا تھا کہ مذاکرات کے نتیجے میں کوئی قابل ذکر پیش رفت ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ تاہم، یہ امن عمل کی ابتدا کی طرف ایک سعی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی مشیر، سوزن رائس نے پیر کی رات گئے اس بات چیت کو روس کی طرف سے یوکرین میں تواتر سے کی جانے والی دراندازی کے حربے اپنانے کا ایک اور انداز قرار دیا۔

ٹوئٹر پر، رائیس نے کہا کہ روسی توب خانہ، فضائی دفاع کے نظاموں، درجنوں ٹینکوں اور فوجی اہل کاروں کی موجودگی کشیدگی میں اضافے کی ایک علامت ہیں۔

XS
SM
MD
LG