رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے کہا کہ اگر روس یوکرین میں اپنے جارحانہ اقدامات جاری رکھتا ہے، جن میں فوجیں بھیجنا، ہتھیار فراہم کرنا اور علیحدگی پسندوں کو مالی اعانت فراہم کرنا شامل ہے، تو پھر روس کو مزید خمیازہ بھگتنا پڑے گا

صدر براک اوباما اور صدر ولادیمیر پیوٹن کا منگل کے روز ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں مشرقی یوکرین میں تشدد پر مبنی بگڑتی ہوئی صورت حال اور وہاں روس کی طرف سے علیحدگی پسندوں کو دی جانے والی حمایت پر گفتگو ہوئی۔

اوباما نے یوکرین کے اقتدارِ اعلیٰ اور علاقائی یکجہتی کے معاملے پر امریکہ کی حمایت کا اعادہ کیا؛ اور لڑائی میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پُرامن حل طے کرنے کے لیے روس، فرانس، جرمنی اور یوکرین کے درمیان جاری گفتگو میں صدر پیوٹن کے شریک ہونے کے میسر موقع پر بھی بات ہوئی۔

صدر نے بات چیت کے ذریعے سمجھوتا طے کرنے اور عمل درآمد کی اہمیت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ اگر روس یوکرین میں اپنے جارحانہ اقدامات جاری رکھتا ہے، جن میں فوجیں بھیجنا، ہتھیار فراہم کرنا اور علیحدگی پسندوں کو مالی اعانت فراہم کرنا شامل ہے، تو پھر روس کو مزید خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

دریں اثنا، تنازع کے حل کے لیے کلیدی سربراہ اجلاس سے قبل، منگل کے روز مشرقی یوکرین کے شہر کراماتورسک پر راکیٹ گرے، جن کا نشانہ روس نواز علیحدگی پسندوں کے فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر اور رہائشی مقامات تھے۔

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل کے سکریٹری، الیک سندر ترچنوف نے کہا کہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق، کراماتورسک پر باغیوں کی جانب سے کیے گئے راکٹ حملوں میں 15 افراد ہلاک اور 63 زخمی ہوئے، جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

دونیسک کی علاقائی انتظامیہ نے اطلاع دی ہے کہ زخمیوں میں سے 32 کا تعلق فوج سے ہے، جو ایک ہوائی اڈے پر لگنے والے راکیٹ کا نشانہ بنے۔

صدر پیترو شنکر نے یوکرین کے پارلیمان کو بتایا کہ کراماتورسک پر دو طرف سے حملہ کیا گیا، ایک میں مشرقی یوکرین میں واقع انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا؛ جب کہ دوسرے میں شہر کے رہائشی علاقے ہدف بنے۔

اس سے قبل، منگل کی صبح یوکرین کے صدارتی مشیر، یوری بریوکوف نے فیس بک پر لکھا کہ فوجی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے حملے میں دو فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG