رسائی کے لنکس

یوکرین: باغیوں کا میزائل حملہ، 23 فوجی ہلاک


یوکرین کی فوج نے گزشتہ ہفتے ہی روس نواز علیحدگی پسندوں سے لوہانسک کا قبضہ چھڑایا ہے

یوکرین کی فوج نے گزشتہ ہفتے ہی روس نواز علیحدگی پسندوں سے لوہانسک کا قبضہ چھڑایا ہے

یوکرین کے صدر پیٹرو پورو شینکو نے اعلان کیا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو ہر صورت "تلاش کرکے تباہ و برباد" کردیا جائے گا۔

یوکرین کے شورش زدہ مشرقی علاقے میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے ایک میزائل حملے میں 23 فوجی اہلکار ہلاک اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے ہیں۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پورو شینکو نے میزائل حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کو ہر صورت "تلاش کرکے تباہ و برباد" کردیا جائے گا۔

حکام کے مطابق حملہ ہفتے کی صبح 4:30 بجے یوکرین کے مشرقی علاقے لوہانسک میں روس کی سرحد کے نزدیک قائم ایک فوجی چوکی پر کیا گیا۔

فوجی حکام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ باغیوں نے زیلینو پلیا کے علاقے میں قائم چوکی پر روسی ساختہ 'گریڈ' میزائل فائر کیے۔

یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مطابق حملے میں 19 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ سرحدی محافظوں کی فورس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میزائل حملے میں چوکی میں تعینات فورس کے چار اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

یوکرین کے فوجی ترجمان نے انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی ساختہ میزائلوں کے اس حملے میں 93 فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یوکرین کی فوج نے ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری لڑائی کے بعد گزشتہ ہفتے ہی روس نواز علیحدگی پسندوں سے لوہانسک کا قبضہ چھڑایا ہے اور اب وہاں حکومت کی عمل داری بحال کرنے میں مصروف ہے۔

علیحدگی پسند لوہانسک سے پسپا ہونے کے بعد اب اپنی قوت صنعتی شہر دونیسک کے دفاع پر مرکوز کر رہے ہیں جو علیحدگی پسندوں کا اہم ٹھکانہ بن چکا ہے۔

لوہانسک میں ہونے والے میزائل حملے کے بعد یوکرینی صدر پوروشینکو نے اپنے ایک بیان میں یوکرین کی مسلح افواج کے خلاف 'گریڈ' میزائل استعمال کرنے والوں کو ڈھونڈ کر کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

صدر نے یہ بیان مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیا ہے جس میں، سرکاری بیان کے مطابق، حملے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

یوکرین کے صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرنے والے ہر فوجی کی قیمت "سیکڑوں دہشت گردوں " کو ہلاک کر کے وصول کی جائے گی اور کوئی بھی "دہشت گرد جواب طلبی سے نہیں بچ پائے گا۔"

یوکرین کی حکومت ملک کے مشرقی علاقوں میں سرگرم روس نواز علیحدگی پسندوں کو "دہشت گرد" قرار دیتی ہے جنہوں نے اپنے تئیں یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں خودمختار ریاستیں قائم کر رکھی ہیں۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں لیکن ماسکو حکومت نے ان علاقوں کے اپنے ساتھ الحاق کے لیے تاحال کوئی براہِ راست فوجی یا سفارتی کارروائی نہیں کی ہے۔

لیکن یوکرین کی حکومت روس پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ ان باغیوں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG