رسائی کے لنکس

امریکی سفیر کا خواتین سیاسی قیدیوں کے لیے مہم کا آغاز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس ماہ کے دوران دنیا بھر سے سیاسی بنا پر قید 20 خواتین کے کیسوں کو سامنے لایا جائے گا تاکہ ان آوازوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے جن کا تذکرہ عورتوں کے حقوق کے بیجنگ اعلامیے کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر جاری بحث سے غائب ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے واشنگٹن میں ’’ان 20 کو رہا کرو‘‘ نامی ایک مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد ’’سیاسی اور دیگر وجوہات کی بنا پر قید خواتین‘‘ کی حالت زار اجاگر کرنا ہے۔

اس ماہ کے دوران دنیا بھر سے سیاسی بنا پر قید 20 خواتین کے کیسوں کو سامنے لایا جائے گا تاکہ پاور کے بقول ان آوازوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے جن کا تذکرہ عورتوں کے حقوق کے بیجنگ اعلامیے کی بیسویں سالگرہ کے موقع پر جاری بحث سے غائب ہے۔

عورتوں کے حقوق کے فروغ کے لیے 1995ء میں 189 ملکوں نے بیجنگ اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ میں اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے سمانتھا نے کہا کہ ’’ان میں سے سب سے پہلی 44 سالہ وانگ یو ہیں جو اس ملک میں قید ہیں جہاں 1995ء کی تاریخی بیجنگ کانفرنس ہوئی، یعنی چین۔

تربیت کے لحاظ سے تجارتی معاملات کی وکیل وانگ نے 2008ء میں اس واقعے کے بعد فعال کردار ادا کرنا شروع کیا جب ایک ریلوے اسٹیشن کے ملازمین نے انہیں اپنے ٹکٹ کے ساتھ ریل گاڑی سے سوار ہونے سے روک دیا۔ جب انہوں نے ریل گاڑی پر سوار ہونے کا مطالبہ کیا تو متعدد افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ ان کو مارا پیٹا گیا، مگر انہیں ’جان بوجھ کر حملہ‘ کرنے کے جرم میں ڈھائی سال قید کی سزا ہوئی۔‘‘

سمانتھا نے کہا کہ وانگ نے اس واقعے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ چین کے انسانی حقوق کے نظام میں بہتری لانا چاہتی ہیں۔ قید سے رہا ہونے کے بعد ’’وانگ نے ان لوگوں کے کیس لینا شروع کر دیے جنہیں دوسرے وکیل لینے سے گھبراتے تھے، مثلاً ایک ایغور دانشور آئی ہیم ٹوہٹی کا کیس، جنہیں بعد میں عمر قید سزا ہوئی۔‘‘

’’ان کے کام کے باعث وانگ کو ہراساں کیا گیا، ڈرایا دھمکایا گیا اور سرکاری میڈیا میں ان کی کردار کشی کی گئی۔ نو جولائی کو وانگ، ان کے شوہر اور 16 سالہ بیٹے کو حراست میں لیا گیا۔ وانگ اور ان کے شوہر اب بھی قید میں ہیں جہاں ان کی وکیل تک رسائی روک دی گئی ہے اور ان پر ابھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ ان کے بیٹے کو رہا کر دیا گیا مگر وہ مسلسل نگرانی میں ہے اور اس کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘‘

چین اور ایتھوپیا سے تین، تین عورتوں کے نام ان بیس خواتین کی فہرست میں ہیں۔

دوسری خواتین کے نام بتاتے ہوئے سمانتھا پاور نے کہا کہ ’’وہ ان ممالک اور ان جیسے دیگر ممالک کو ایک پیغام بھیج رہی ہیں کہ اگر آپ عورتوں کو بااخیتار بنانا چاہتے ہیں تو آپ انہیں ان کے نقطہ نظر اور اپنے حقوق کے لیے لڑائی پر قید نہ کریں۔‘‘

XS
SM
MD
LG