رسائی کے لنکس

فوجی حملوں سے شام میں خانہ جنگی بڑھ سکتی ہے: بان کی مون


سیکرٹری جنرل بان کی مون

سیکرٹری جنرل بان کی مون

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا ہے کہ شام کے تنازع کی عسکری نوعیت میں اضافے ہو سکتا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے ’’سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں

اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل بان کی مون نے عالمی رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ ’مکمل سوچ و بچار کے بغیر‘ شام کے خلاف فوجی کارروائی اس ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

بان کی مون نے یہ بیان جمعہ کو روس میں جی-20 سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والے ایک علیحدہ اجلاس کے بعد کہی جس میں انسانی ہمدردی سے اُمور زیر غور آئے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما بھی روس میں ہیں جہاں وہ شام کے خلاف ممکنہ فوجی حملے پر بین الاقوامی برادری کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے متنبہ کیا ہے کہ شام کے تنازع کی عسکری نوعیت میں اضافے ہو سکتا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے ’’سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور (ان سے) فرقہ وارانہ تشدد میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔‘‘

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب لخدار براہمیمی بھی سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں شریک ہیں اور وہ بھی بان کی مون کے ساتھ مل کر شام میں اڑھائی سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہیں۔

روس میں ہونے والے اقتصادی سربراہ اجلاس کے پہلے دن کے خاتمے پر عالمی رہنما شام کے مسئلے پر منقسم ہیں۔
XS
SM
MD
LG