رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل میں بوکو حرام پر پابندی زیر غور


بوکو حرام گروپ کے شدت پسند

بوکو حرام گروپ کے شدت پسند

اگر اس معاملے پر 15 رکنی سلامتی کونسل میں کوئی اعتراض نہیں اٹھتا تو بوکو حرام تعزیرات کی زد میں آنے والے 213 افراد اور 62 گروپس کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

نائیجیریا میں سرگرم مذہبی شدت پسند گروپ بوکو حرام پر اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات کو پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

اس شدت پسند گروپ پر 2009ء سے حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کا الزام ہے۔

نائیجیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کوسنل سے کہا تھا کہ وہ اس گروپ کو القاعدہ سے منسلک گروہوں کی فہرست میں شامل کرے جس سے اس کے اثاثے منجمد، سفری پابندیاں اور اسلحے کی فراہمی پر تعزیرات عائد ہو سکیں گی۔

اگر اس معاملے پر 15 رکنی سلامتی کونسل میں کوئی اعتراض نہیں اٹھتا تو بوکو حرام تعزیرات کی زد میں آنے والے 213 افراد اور 62 گروپس کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے نائیجیریا میں ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات پر بدھ کو دیر گئے ایک مذمتی بیان بھی جاری کیا۔

ان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ "شہریوںپر حملوں کا قطعاً کوئی جواز" نہیں ہے۔

اقوام متحدہ بوکو حرام کی طرف سے گزشتہ ماہ نائیجیریا سے اغوا کی گئی 250 سے زائد طالبات کی بازیابی کی کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے جس میں مغوی طالبات اور ان کے اہل خانہ کے لیے "امدادی پیکج" کی تیاری بھی شامل ہے۔

بدھ کو امریکہ کے صدر براک اوباما نے طالبات کی بازیابی کے لیے چاڈ میں 80 امریکی فوجی بھی تعینات کیے ہیں۔
XS
SM
MD
LG