رسائی کے لنکس

اکے سیلسٹرام کی سربراہی میں معائنہ کاروں کی ٹیم ڈھائی برس سے جاری خانہ جنگی کے دوران ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرے گی۔

کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار دوبارہ شام پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ڈھائی برس سے جاری خانہ جنگی کے دوران ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کریں گے۔

اکے سیلسٹرام کی سربراہی میں معائنہ کاروں کی ٹیم بزریعہ ہوائی جہاز بدھ کو لبنان پہنچی، جہاں سے اس نے گاڑی کے ذریعے دشتق تک کا سفر کیا۔

یہ معائنہ کار گزشتہ ماہ بھی شام آئے تھے جہاں اُنھوں نے تین حملوں کی تحقیقات کی تھیں، جن میں حلب شہر کے قریب مارچ میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس کا الزام شام کی حکومت اور باغی جنگجوؤں نے ایک دوسرے پر عائد کیا تھا۔

اُنھوں نے بعد ازاں اپنی توجہ دمشق کے مضافات میں ہوئے حملے پر مرکوز کر دی اور اس نتیجے پر پہنچے کے یہاں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے تھے۔ اس ٹیم کے مینڈیٹ میں کسی کیمیائی حملے کے ذمہ واروں کی نشاندہی شامل نہیں تھی۔

مزید برآں 13 باغی گروہوں کی طرف سے بدھ کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں مرکزی حکومت مخالف اتحاد سیریئن نیشنل کوالیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اتحاد ان کے مفادات کی ترجمانی نہیں کرتا۔

اس اتحاد میں القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ بھی شامل ہے اور اس اتحاد نے صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر پیکار عناصر کو اسلامی ڈھانچے تلے متحد ہونے کو کہا تھا۔

مزید برآں سفارت کار اُس مجوزہ قرارداد کی تیاری پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کا مقصد شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی بین الاقوامی برادری کو حوالگی کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سرگی لاوروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیو یارک میں منگل کو ملاقات کی تھی، تاہم وہ اس دستاویز کے نمایاں نقاط پر متفق ہونے میں ناکام رہے۔
XS
SM
MD
LG