رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں کو حراست میں لینا بحران کا حل نہیں: بان کی مون


بان کی مون ایک پناہ گزین بچے سے مل رہے ہیں

بان کی مون ایک پناہ گزین بچے سے مل رہے ہیں

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ "مجھے مشکلات کا ادراک ہے، لیکن دنیا کے پاس وہ دولت، وہ قابلیت اور ذمہ داری ہے جو اس چیلنج سے نمٹ سکے۔"

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ یورپ میں تارکین وطن کو حراست میں رکھنا اس بحران کا حل نہیں اور یہ سلسلہ فوراً ختم ہونا چاہیے۔

انھوں نے یونان کے جزیرہ لیسبوس میں جنگ، دہشت گردی اور غربت کے باعث اپنے ملکوں سے یہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں سے ملاقات کی اور اس موقع پر یورپی ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بحران پر اپنا ردعمل "انسانی اور انسانی حقوق کی بنیاد" وضع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ " آئے ہم مل کر مزید لوگوں آباد کریں، انھیں قانونی راستے فراہم کریں اور بہتر پناہ گزینوں کے طور پر ضم کریں۔۔۔مجھے مشکلات کا ادراک ہے، لیکن دنیا کے پاس وہ دولت، وہ قابلیت اور ذمہ داری ہے جو اس چیلنج سے نمٹ سکے۔"

ہفتہ کو یونان کے وزیراعظم الیکسس سیپراس سے ملاقات کے بعد بان کی مون نے یونن کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے بقول "شاندار یکجہتی اور عزم" کا مظاہرہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ یونان اپنی اقتصادی مشکلات کے باوجود زندگیاں بچانے کی کوششوں میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔

شام، افغانستان اور دنیا کے دیگر تنازع کے شکار ممالک سے ہزاروں تارکین وقت یونان میں عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں اور انھیں امید ہے کہ یورپی یونین کے ممالک کے میں وہ مستقل رہائش حاصل کر سکیں گے۔

رواں سال ہی یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس میں یونان پہنچنے والے تارکین وطن پناہ کے لیے درخواستیں دے سکیں گے۔ جن کی درخواستیں مسترد ہوں گی انھیں ترکی واپس بھیج دیا جائے گا اور اس کے بدلے یورپی یونین انقرہ کی حکومت کو امداد اور دیگر فوائد فراہم کرے گی۔

تارکین وطن کی بڑی تعداد ترکی کے راستے ہیں یونان پہنچتی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس معاہدے کو یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ پناہ گزینوں کو ترکی اور میں نامناسب سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یورپی یونین جنگ اور مصائب سے فرار ہونے والے تارکین وطن کو سیاسی شطرنج میں مہروں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG