رسائی کے لنکس

امن اہلکاروں کی جنسی زیادتیوں کا خاتمہ ضروری ہے: بان کی مون


بان کی مون

بان کی مون

جمہوریہ وسطی افریقہ میں اقوام متحدہ کے مشن پر جنسی بدسلوکی اور استحصال کے خلاف سب سے زیادہ الزامات عائد کیے گئے جن میں سے 22 گزشتہ سال سامنے آئے جبکہ 2016 میں بھی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جمعرات کو کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کی طرف سے جنسی بدسلوکی اور استحصال کے خلاف ’’فیصلہ کن اور جرات مندانہ کارروائی‘‘ کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کا استحصال اقوام متحدہ اور ان لوگوں کے درمیان بداعتمادی کا باعث بنتا ہے جن کی حفاظت کے لیے انہیں بھیجا جاتا ہے۔ صرف گزشتہ سال اقوام متحدہ کے فوجیوں کے خلاف استحصال کے 69 الزامات سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ ان اقدار اور اصولوں کے منافی ہے جن کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کام کر رہی ہے اور یہ اقوام متحدہ کے امن آپریشنوں اور پوری اقوام متحدہ کی ساکھ خراب کرتا ہے۔‘‘

جمہوریہ وسطی افریقہ میں اقوام متحدہ کے مشن پر جنسی بدسلوکی اور استحصال کے خلاف سب سے زیادہ الزامات عائد کیے گئے جن میں سے 22 گزشتہ سال سامنے آئے جبکہ 2016 میں بھی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کئی سالوں سے اس قسم کے جرائم کے خلاف ’’مکمل عدم برداشت‘‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے مگر ایسے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ ماہ اس موضوع پر جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے ردعمل کو تقویت دینے کے لیے نئے اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں جرم سے استثنیٰ کا خاتمہ، متاثرین کی امداد اور جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب شامل ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے فوجی اور پولیس اہلکار بھیجنے والے ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ان مشنوں میں کورٹ مارشل کریں جہاں مبینہ بدسلوکی ہوئی۔ انہوں نے جرائم کا ارتکاب کرنے والے مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بان کی مون نے الزامات کی تحقیقات تین سے چھ ماہ کے دوران مکمل کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ امن فورس کے جن اہلکاروں کے خلاف الزامات ثابت ہو جائیں ان کی تنخواہیں متاثرین کی امداد کے لیے بنائے گئے ٹرسٹ فند میں منتقل کر دی جائیں۔

ایسے واقعات میں جہاں ایک ہی دستے کے متعدد اہلکاروں پر جنسی بدسلوکی یا استحصال کا الزام ہو تو پورے دستے کو اپنے ملک واپس بھیج دیا جائے۔ ایسا پہلے ہی ہو چکا ہے جب جمہوریہ کانگو کے دستے کو گزشتہ ماہ جمہوریہ وسطی افریقہ سے واپس اپنے ملک بھیج دیا گیا۔

امریکہ نے ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں سیکرٹری جنرل کی سفارشات کی توثیق کی گئی ہے۔ کونسل کے ارکان سے کئی مشاروتی اجلاسوں کے بعد جمعے کو اس مسودے پر رائے شماری متوقع ہے۔

روس کے نائب سفیر پیٹر الیچوف نے سلامتی کونسل میں کہا کہ یہ مسودہ ’’مثالی ہونے سے بہت دور ہے‘‘ اور ماسکو اس کا دائرہ مزید وسیع کرکے اقوام متحدہ کے غیرفوجی عملے اور ان غیرملکی فوجیوں کو بھی اس میں شامل کرنا چاہے گا جنہیں اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت تعینات کیا جاتا ہے مگر وہ اس کے امن مشن کا حصہ نہیں ہوتے۔

گزشتہ سال اقوام متحدہ کے غیر فوجی عملے کے خلاف جنسی بدسلوکی اور استحصال کی 30 شکایات سامنے آئیں۔

XS
SM
MD
LG