رسائی کے لنکس

غزہ پہ اسرائیلی حملوں میں 400 بچے ہلاک ہوئے، اقوامِ متحدہ


اسرائیلی بمباری میں اپنے گھر کی تباہی پر نوحہ کناں ایک فلسطینی خاندان

اسرائیلی بمباری میں اپنے گھر کی تباہی پر نوحہ کناں ایک فلسطینی خاندان

'یونیسیف' کے مطابق جنگ نے غزہ کے بچوں کی نفسیات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان میں ذہنی دباؤ کی شدید علامات ظاہر ہورہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے 'یونیسیف' نے کہا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران مرنے والوں میں 400 سے زائد بچے بھی شامل تھے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں لگ بھگ 2700 فلسطینی بچے زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے کئی زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں۔

'یونیسیف' کے مطابق ایک ماہ تک جاری رہنے والے فضائی حملوں اور بمباری کے باعث غزہ کے بچے شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جس سے بچنے کے لیے لگ بھگ چار لاکھ بچوں کو فوری 'کونسلنگ' اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔

غزہ میں 'یونیسیف' کے فیلڈ آفس کی سربراہ پرنیلے آئرن سائڈ نے منگل کو غزہ سے ٹیلی فون پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی 18 لاکھ آبادی کا نصف بچوں پر مشتمل ہے جن کی صحت اور نفسیات پر اسرائیل کے لگ بھگ ایک مہینہ جاری رہنے والے حملوں نے انتہائی برے اثرات مرتب کیے ہیں۔

عالمی ادارے کی عہدیدار نے بتایا کہ غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات سنہ 2008 اور سنہ 2012ء میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے مجموعی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔

پرنیلے آئرن سائڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت غزہ میں کوئی ایک بھی ایسا خاندان نہیں ہے جس نے جنگ کے دوران اپنا کوئی پیارا نہ کھویا ہو، یا اس کا کوئی فرد زخمی نہ ہوا ہو، یا اسرائیلی بمباری سے اس کے گھر اور دیگر املاک کو نقصان نہ پہنچا ہو۔

'یونیسیف' کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کے 18 لاکھ افراد میں سے ڈھائی لاکھ لوگ اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر اقوامِ متحدہ کے اسکولوں میں پناہ گزین ہیں۔

ان کا کہنا تھا جنگ نے غزہ کے بچوں کی نفسیات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان میں ذہنی دباؤ کی شدید علامات ظاہر ہورہی ہیں۔

عالمی ادارے کی عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے واحد بجلی گھر کو بمباری کا نشانہ بنا کر تباہ کردیا تھا جس کے باعث یہ گنجان آباد علاقہ بجلی سے محروم ہے جب کہ موٹریں نہ چلنے کے باعث علاقے میں صاف پانی بھی میسر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی نہ ہونے کے باعث اقوامِ متحدہ کے اسکولوں میں بھی پناہ گزین بچے وبائی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں جب کہ عالمی ادارے کے مراکز سے باہر کی صورتِ حال ا س سے کہیں زیادہ خراب ہوچکی ہے۔

پرنیلے آئرن سائڈ کے مطابق غزہ کے تعلیمی اداروں کو اسرائیلی بمباری سے بہت نقصان پہنچا ہے اور علاقے کے کم از کم 142 اسکول اسرائیلی حملوں میں تباہ ہوگئے ہیں۔ تباہ ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے 89 اسکول بھی شامل ہیں۔

تاہم عالمی عہدیدار کا کہنا تھا کہ غزہ کے اسکولوں کی تباہی کی ذمہ داری 'حماس' پر بھی عائد ہوتی ہے جس نے اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے اپنے راکٹوں کی کچھ کھیپ اقوامِ متحدہ کے تین اسکولوں میں چھپا رکھی تھی۔

XS
SM
MD
LG