رسائی کے لنکس

افغانستان: امدادی کارکنوں کا قتل، اقوام متحدہ کی مذمت


فائل

فائل

صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’بے گناہ انجنیئروں اور کارکنوں کی ہلاکت ظاہر کرتی ہے کہ طالبان اور اُن کے غیر ملکی آقا یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان ہمیشہ ہی مفلس و غیر ترقی یافتہ رہے‘

اقوام متحدہ نے مغربی افغانستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں چھ سویلین امدادی کارکنوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے جنگجو نہیں تھے، اور اُن کا قتل جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعانتی مشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتوار کو جب اِن کارکنوں کو اغوا کیا گیا، وہ ایک ترقیاتی منصوبے میں شریک تھے جس کا مقصد دیہی علاقوں میں معاشی مواقع پیدا کرنا تھا۔

منگل کے روز اُن کی لاشیں صوبہٴ ہرات سے برآمد ہوئیں۔

افغانستان کے طالبان نے اِن ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی، جو اس وقت پاکستان کے دورے پر تھے، اِن ہلاکتوں پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔ وہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے انتظامات کے سلسلے میں اسلام آباد سے مدد طلب کر رہے تھے۔

صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’بے گناہ انجنیئروں اور کارکنوں کی ہلاکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان اور اُن کے غیر ملکی آقا چاہتے ہیں کہ افغانستان ہمیشہ ہی مفلس اور غیر ترقی یافتہ رہے‘۔
XS
SM
MD
LG